مسند عمر بن عبد العزيز
عمر بن عبد العزيز عن عبيد الله بن عبد الله— عمر بن عبدالعزیز کی عبیداللہ بن عبداللہ سے بیان کردہ روایات
بَابُ بَيَانِ كَيْفِيَّةِ صَلَاةِ الْخَوْفِ كَمَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: نماز خوف کی کیفیت کا بیان جیسا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ الْبَزَّاز ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، عَنْ أَبِي عُمَيْسٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا بَكْرِ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي جَهْمٍ الْقُرَشِيَّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، أَنَّ الْوَلِيدَ بْنَ عَبْدِ الْمَلِكِ كَتَبَ كِتَابًا إِلَى عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَأْمُرُهُ أَنْ يَسْأَلَ فُقَهَاءَ مِنْ قِبَلِهِ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ عَنْ صَلاةِ الْخَوْفِ ، فَأَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى فُقَهَائِهِمْ يَسْأَلُهُمْ . قَالَ : فَجَاءَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، وَقَدِ اخْتَلَفَ الْقَوْمُ عَلَيْهِ ، فَقَالَ : دَعْ مَا يَقُولُ هَؤُلاءِ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ رضي الله عَنْهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى بِالنَّاسِ صَلاةَ الْخَوْفِ ، فَصَلَّى بِطَائِفَةٍ مِنْهُمْ رَكْعَةً ، فَاسْتَقْبَلُوا الْعَدُوَّ ، ثُمَّ جَاءَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَصَلَّوْا مَعَهُ الرَّكْعَةَ الأُخْرَى ، ثُمَّ جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَتَشَهَّدَ وَسَلَّمَ " ، فَكَانَتْ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ ، وَلِلنَّاسِ رَكْعَةٌ .عبید الله بن عبداللہ بن عتبہ سے مروی ہے کہ ولید بن عبدالملک نے عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ کو خط لکھا جس میں انہیں حکم دیا کہ وہ مدینہ کے فقہاء سے نماز خوف سے متعلق دریافت کریں ۔ عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے مدینہ کے فقہاء سے مسئلہ دریافت کیا، عبید اللہ بن عبداللہ نے کہا عبید اللہ بن عتبہ آئے جبکہ لوگوں کی اس مسئلہ میں مختلف آراء سامنے آئیں تو انہوں نے کہا آپ ان کی باتیں چھوڑیں، مجھے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے حدیث بیان کی ، بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو نماز خوف پڑھائی ، ایک گروہ کو ان میں سے ایک رکعت پڑھائی تو دوسرا دشمن کے سامنے صف بند ہو گیا، پھر دوسرا گروہ آیا اور انہوں نے آپ کے ساتھ دوسری رکعت پڑھی پھر رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے تشہد پڑھا اور سلام پھیر دیا ، اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو رکعتیں اور صحابہ کی ایک ایک رکعت ہوئی۔