مسند عمر بن عبد العزيز
عمر بن عبد العزيز عن رجل— عمر بن عبدالعزیز کی کسی ایک شخص سے بیان کردہ روایات
بَابُ بَيَانِ فَضَائِلِ إِطْلَاقِ الْغُلَامِ وَإِطْلَاقِ السِّهَامِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَأَنْ يَكُونَ النُّورُ لِلشَّيْبِ باب: غلام آزاد کرنے، اللہ کی راہ میں تیر چلانے اور سفید بالوں کے نور بننے کے فضائل کا بیان
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَرْزُوقِ بْنِ الْبُهْلُولِ الْبَاهِلِيُّ ، وَمُحَمَّدٌ يَعْنِي ابْنَ مَعْمَرٍ ، قَالا : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنِي الأَسْوَدُ بْنُ الْعَلاءِ ، حَدَّثَنِي مَوْلَى سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ رَجُلٍ أَرْسَلَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ ، فَقَالَ : كَيْفَ الْحَدِيثُ الَّذِي حَدَّثْتَنِي عَنِ الصُّنَابِحِيِّ ؟ قَالَ : أَخْبَرَنِي الصُّنَابِحِيُّ ، أَنَّهُ أَتَى عَمْرَو بْنَ عَبَسَةَ ، قَالَ : هَلْ مِنْ حَدِيثٍ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا زِيَادَةَ فِيهِ وَلا نُقْصَانَ ؟ قَالَ : نَعَمْ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ أَعْتَقَ رَقَبَةً أَعْتَقَ اللَّهُ تَعَالَى بِكُلِّ عُضْو مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنَ النَّارِ ، وَمَنْ رَمَى بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بَلَغَ أَوْ قَصَّرَ كَانَ عَدْلَ رَقَبَةٍ ، وَمَنْ شَابَ شَيْبَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى كَانَتْ لَهُ نُورًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .سليمان بن عبد الملک نے ایک آدمی سے روایت کیا کہ امیر المومنین عمر بن عبد العزیز رحمہ اللہ نے اس کی طرف پیغام بھیجا اور کہا: وہ حدیث جو آپ نے مجھے صناسجی سے بیان کی کیسے ہے؟ اس نے کہا مجھے انہوں نے خبر دی کہ وہ عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا، کیا کوئی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر کمی ، بیشی کے مروی روایت ہے؟ تو انہوں نے کہا ہاں میں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کو بیان فرماتے سنا: ”جس نے کسی غلام کو آزاد کیا ، اللہ تعالی اس غلام کے ہر عضو (جوڑ) کے بدلے اس کے تمام اعضا کو جہنم سے آزاد کریں گے ، اور جس نے اللہ کی راہ میں تیر پھینکا ، دشمن تک پہنچایا نہ پہنچا ، وہ ایک غلام آزاد کرنے کے برابر ہے اور جس نے اپنے بالوں کو اللہ کی راہ میں سفید کر دیا تو یہ اس کے لیے قیامت کے دن نور (روشنی) ہوں گے۔