مسند عمر بن عبد العزيز
عمر بن عبد العزيز عن أنس بن مالك— عمر بن عبدالعزیز کی انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے بیان کردہ روایات
بَابُ بَيَانِ أَنَّ صَلَاةَ الْمُصَلِّي لَا تَبْطُلُ بِمُرُورِ الْحِمَارِ باب: گدھے کے گزرنے پر نماز کے نہ ٹوٹنے کا بیان
حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هِشَامِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ إِدْرِيسُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ بَكْرِ بْنِ مُضَرَ ، عَنْ صَخْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَرْمَلَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، يَقُولُ : عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالنَّاسِ ، فَمَرَّ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ حِمَارٌ ، فَقَالَ عَيَّاشُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ : سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنِ الْمُسَبِّحُ آنِفًا سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ؟ " ، قَالَ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي سَمِعْتُ أَنَّ الْحِمَارَ يَقْطَعُ الصَّلاةَ ، قَالَ : " لا يَقْطَعُ الصَّلاةَ شَيْءٌ " .سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو نماز پڑھائی تو ان کے آگے سے گدھا گزرا۔ عیاش بن ابی ربیعہ نے (نماز میں ہی) «سبحان الله وبحمده» ”اللہ پاک ہے اپنی تعریفوں اور خوبیوں کے ساتھ کہا۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سلام پھیرا تو پوچھا: ”ابھی (نماز میں ) «سبحان الله و بحمده» کیس نے کہا؟ “ عیاش بن ربیعہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے ۔ کیونکہ میں نے سنا ہے گدھا گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ”نماز کسی چیز کے سامنے سے نکل جانے سے نہیں ٹوٹتی۔“