کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: اے اللہ ! بے شک میں تجھ سے اعتدال والی زندگی ، صاف ستھری موت اور ایسی عاقبت کا سوال کرتا ہوں جس میں کوئی ذلت ورسوائی نہ ہو
حدیث نمبر: 1498
1498 - أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْمَيْمُونِ الْكَاتِبُ، أبنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْخَثْعَمِيُّ، قَالَ: ثنا أَبُو كُرَيْبٍ، ثنا خَلَّادٌ الْجُعْفِيُّ، ثنا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو يَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِيشَةً سَوِيَّةً، وَمِيتَةً نَقِيَّةً، وَمَرَدًّا غَيْرَ مُخْزٍ وَلَا فَاضِحٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے ہوئے فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ! بے شک میں تجھ سے اعتدال والی زندگی، صاف ستھری موت اور ایسی عاقبت کا سوال کرتا ہوں جس میں کوئی ذلت ورسوائی نہ ہو۔“
حدیث نمبر: 1499
1499 - أنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأُدْفُوِيُّ، أنا أَبُو الطَّيِّبِ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُرَيْرِيُّ، نا أَبُو جَعْفَرٍ الطَّبَرِيُّ، نا أَبُو كُرَيْبٍ، نا خَلَّادُ بْنُ يَزِيدَ الْجُعْفِيُّ، نا شَرِيكٌ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْعُو فَيَقُولُ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِيشَةً نَقِيَّةً، وَمِيتَةً سَوِيَّةً، وَمَرَدًّا غَيْرَ مُخْزٍ وَلَا فَاضِحٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دعا کرتے ہوئے فرمایا کرتے: ”اے اللہ! بے شک میں تجھ سے صاف ستھری زندگی اور آسانی والی موت اور ایسی عاقبت کا سوال کرتا ہوں جس میں کوئی ذلت ورسوائی نہ ہو۔“