حدیث نمبر: 1496
1496 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُعَاذٍ، ثنا أَبُو عُمَرَ السَّمَرْقَنْدِيُّ، ثنا أَبُو أُمَيَّةَ، ثنا قَبِيصَةُ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ طَلْقِ بْنِ قَيْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ مِنْ دُعَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي وَاغْسِلْ حَوْبَتِي وَأَجِبْ دَعْوَتِي»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں میں سے ایک یہ بھی تھی: ”پروردگار! میری توبہ قبول فرما، میرے گناہ دھو ڈال اور میری دعا قبول کر۔“
وضاحت:
تشریح: -
مکمل دعا یوں ہے:« رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى لِي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ . رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا، لَكَ ذَكَّارًا، لَكَ رَهَّابًا، لَكَ مُطِيعًا، إِلَيْكَ مُخْبِتًا، إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي» [ابن ماجه: 3830]
”اے میرے رب! میری مدد فرما اور میرے خلاف (دشمن کی) مدد نہ فرما۔ اور میری تائید فرما اور میرے خلاف (دشمن کی) تائید نہ فرما۔ اور میرے حق میں تدبیر فرما اور میرے خلاف تدبیر نہ فرما۔ اور مجھے ہدایت سے نواز اور ہدایت کو میرے لے آسان کر دے۔ اور جو مجھے پر زیادتی کرے اس کے خلاف میری مدد فرما۔ اے میرے رب! مجھے ایسا (بندہ) بنا جو تیرا بہت شکر کرنے والا ہو، تیرا بہت ذکر کر نے والا ہو، تجھ سے بہت ڈرنے والا ہو، تیری اطاعت کرنے والا ہو، تیرے سامنے عاجزی کرنے والا ہو، تیری طرف ہی بار بار کر رجوع کرنے والا ہو۔ اے میرے رب! میری توبہ قبول فرما، میرے گناہ دھو ڈال، میری دعا قبول کرلے، میرے دل کو ہدایت دے، میری زبان سیدھی رکھے، میری دلیل کو (پختہ اور) قائم رکھ اور میرے دل سے کینہ نکال دیجیے۔ “
مکمل دعا یوں ہے:« رَبِّ أَعِنِّي وَلَا تُعِنْ عَلَيَّ، وَانْصُرْنِي وَلَا تَنْصُرْ عَلَيَّ، وَامْكُرْ لِي وَلَا تَمْكُرْ عَلَيَّ، وَاهْدِنِي وَيَسِّرِ الْهُدَى لِي، وَانْصُرْنِي عَلَى مَنْ بَغَى عَلَيَّ . رَبِّ اجْعَلْنِي لَكَ شَكَّارًا، لَكَ ذَكَّارًا، لَكَ رَهَّابًا، لَكَ مُطِيعًا، إِلَيْكَ مُخْبِتًا، إِلَيْكَ أَوَّاهًا مُنِيبًا، رَبِّ تَقَبَّلْ تَوْبَتِي، وَاغْسِلْ حَوْبَتِي، وَأَجِبْ دَعْوَتِي، وَاهْدِ قَلْبِي، وَسَدِّدْ لِسَانِي، وَثَبِّتْ حُجَّتِي، وَاسْلُلْ سَخِيمَةَ قَلْبِي» [ابن ماجه: 3830]
”اے میرے رب! میری مدد فرما اور میرے خلاف (دشمن کی) مدد نہ فرما۔ اور میری تائید فرما اور میرے خلاف (دشمن کی) تائید نہ فرما۔ اور میرے حق میں تدبیر فرما اور میرے خلاف تدبیر نہ فرما۔ اور مجھے ہدایت سے نواز اور ہدایت کو میرے لے آسان کر دے۔ اور جو مجھے پر زیادتی کرے اس کے خلاف میری مدد فرما۔ اے میرے رب! مجھے ایسا (بندہ) بنا جو تیرا بہت شکر کرنے والا ہو، تیرا بہت ذکر کر نے والا ہو، تجھ سے بہت ڈرنے والا ہو، تیری اطاعت کرنے والا ہو، تیرے سامنے عاجزی کرنے والا ہو، تیری طرف ہی بار بار کر رجوع کرنے والا ہو۔ اے میرے رب! میری توبہ قبول فرما، میرے گناہ دھو ڈال، میری دعا قبول کرلے، میرے دل کو ہدایت دے، میری زبان سیدھی رکھے، میری دلیل کو (پختہ اور) قائم رکھ اور میرے دل سے کینہ نکال دیجیے۔ “