کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: اے اللہ ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو اسے سب سے بہتر پاک وصاف کرنے والا ہے
حدیث نمبر: 1481
1481 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ نَظِيفٍ الشَّافِعِيُّ، ثنا أَبُو مُحَمَّدٍ الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، أبنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ الرَّازِيُّ، ثنا ابْنُ كَاسِبٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْأُمَوِيُّ، عَنْ مَعْنِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْغِفَارِيِّ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ عَلِيٍّ الْأَسْلَمِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا» ، وَقَالَ: «اللَّهُمَّ آتِ نَفْسِي تَقْوَاهَا، وَزَكِّهَا أَنْتَ خَيْرُ مَنْ زَكَّاهَا، وَأَنْتَ وَلِيُّهَا وَمَوْلَاهَا» ، وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ﴿قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا﴾ (الشمس: 9) ”بے شک وہ کامیاب ہوا جس نے اس (نفس) کو پاک کیا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک کر دے تو اسے سب سے بہتر پاک وصاف کرنے والا ہے تو ہی اس کا کارساز اور مالک ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت نماز میں تھے۔
وضاحت:
فائدہ: -
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں تم سے اسی طرح کہتا ہوں جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا، آپ فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! بے شک میں عجز، سستی، بزدلی، بخل سخت بڑھاپے اور عذاب قبر سے تیری پناہ چاہتا ہوں۔ اے اللہ! میرے نفس کو اس کا تقویٰ عطا فرما اور اسے پاک صاف کر دے تو اسے سب سے بہتر پاک وصاف کرنے والا ہے تو ہی اس کا کار ساز اور مالک ہے۔ اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں ایسے علم سے جو نفع مند نہ ہو، ایسے دل سے جو ڈرتا نہ ہو ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو قبول نہ ہو۔ [مسلم: 2722]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1481
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، تفسير ابن ابي حاتم : 19339»
عبداللہ بن عبد الله الاموی کو صرف ابن حبان نے ثقہ کہا ہے ۔