کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: اے اللہ ! تو نے میری صورت اچھی بنائی ہے تو میری سیرت بھی اچھی بنا دے
حدیث نمبر: 1472
1472 - أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْقَيْسَرَانِيُّ، ثنا الْخَرَائِطِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ حَرْبٍ، ثنا مُحَاضِرُ بْنُ الْمُوَرِّعِ، قَالَ: ثنا عَاصِمٌ، عَنْ عَوْسَجَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْبَدْرِيِّ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اللَّهُمَّ حَسَّنْتَ خَلْقِي فَحَسِّنْ خُلُقِي»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ بدری کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ! تو نے میری صورت اچھی بنائی ہے تو میری سیرت بھی اچھی بنا دے۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1472
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه مكارم الاخلاق للخرائطي : 9 ، عن ابي مسعود ، أحمد : 4031 ، ابويعلي : 5075 ، ابن حبان : 959 ، عن ابن مسعود»
حدیث نمبر: 1473
1473 - وَأَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ عَوْسَجَةَ بْنِ الرَّمَّاحِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْهُذَيْلِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ «اللَّهُمَّ أَحْسَنْتَ خَلْقِي فَحَسِّنْ خُلُقِي»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ! تو نے میری صورت اچھی بنائی ہے تو میری سیرت بھی اچھی بنا دے۔“
وضاحت:
تشریح: -
اس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے بہترین صورت پر انسان کی تخلیق فرمائی ہے۔ قرآن میں ہے کہ ﴿لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ‎﴾ (التین: 4) یقینا ہم نے انسان کو بہترین صورت میں پیدا فرمایا ہے۔
ایک دوسرے مقام پر ہے کہ ﴿وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ﴾ (التغابن: 3) اس نے تمہاری صورتیں بنائیں اور بہت اچھی بنا ئیں۔
انسان خواہ کسی بھی رنگ و نقش کا ہو وہ دیگر مخلوقات سے بہتر بنایا گیا ہے اس لیے اسے چاہیے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا رہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا کرتے تھے اور ساتھ ہی ایمان وایقان اور اچھے اوصاف وخصائل کے حصول کی بھی دعا کرتا رہے کیونکہ صورت جیسی بھی ہو کامیابی و نجات کا دارو مدار تو انہی خصائل پر ہے۔ علاوہ از یں جن روایات میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آئینہ دیکھتے وقت مذکورہ بالا دعا مانگا کرتے تھے، وہ ضعیف ہیں۔ (فقه الاسلام، ص: 848)
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1473
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه مكارم الاخلاق للخرائطي : 9 ، عن ابي مسعود ، أحمد : 4031 ، ابويعلي : 5075 ، ابن حبان : 959 ، عن ابن مسعود»