حدیث نمبر: 1470
1470 - أَخْبَرَنَا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيٍّ الْغَازِي، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي الْمَوْتِ الْمَكِّيُّ، إِمْلَاءً، ثنا أَحْمَدُ بْنُ زَيْدٍ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، ثنا يُوسُفُ بْنُ عَطِيَّةَ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ عَبْدُ الْحَكَمِ بْنُ مَيْمُونٍ يَعُودُنِي فَأَخْبَرَنِي أَنَّهٌ، دَخَلَ مَعَ ثَابِتٍ عَلَى أَنَسٍ فَحَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ شَاكٍ فَقَالَ لَهُ: «قُلِ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ تَعْجِيلَ عَافِيَتِكَ، وَصَبْرَا عَلَى بَلِيَّتِكَ، وَخُرُوجًا مِنَ الدُّنْيَا إِلَى رَحْمَتِكَ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
یوسف بن عطیہ کہتے ہیں کہ عبدالحکم بن میمون میری عیادت کرنے آئے تو انہوں نے مجھے خبر دی کہ وہ ثابت کے ہمراہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے پاس گئے تو انہوں نے ان کو یہ حدیث بیان کی کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لے گئے اس وقت وہ کسی تکلیف میں مبتلا تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ”کہو: اے اللہ! بے شک میں تجھ سے تیری جلد عافیت اور تیری آزمائش پر صبر اور دنیا سے تیری رحمت کی طرف نکلنے کا سوال کرتا ہوں۔“