کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: اے اللہ ! بے شک میں اس بات سے تیری پناہ چاہتا ہوں کہ گمراہ ہو جاؤں یا گمراہ کیا جاؤں
حدیث نمبر: 1469
1469 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا مُسْلِمٌ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: مَا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ بَيْتِي صَبَاحًا إِلَّا رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ وَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ أَوْ أُضَلَّ، أَوْ أَذِلَّ أَوْ أُذَلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت جب بھی میرے گھر سے باہر نکلے تو آپ نے اپنی نگاہ آسمان کی جانب اٹھائی اور یہ دعا پڑھی: ”اے اللہ! بے شک میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ گمراہ ہو جاؤں یا گمراہ کیا جاؤں، پھسل جاؤں یا پھسلایا جاؤں، ظلم کروں یا مجھ پر کوئی ظلم کرے، جہالت برتوں یا مجھ سے کوئی جہالت برتی جائے۔“