حدیث نمبر: 1463
1463 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُسْلِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْكَاتِبُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَمْدُونٍ بِبَالِسَ، حَدَّثَنِي عَمِّي إِبْرَاهِيمُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنْ جَرِيرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " يَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى: الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي، فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا أَلْقَيْتُهُ فِي النَّارِ "
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: بڑائی میری چادر ہے اور عظمت میرا ازار ہے، پس جس شخص نے ان میں سے کسی ایک کو مجھ سے چھینے کی کوشش کی میں اسے آگ میں پھینک دوں گا۔“
حدیث نمبر: 1464
1464 - وأنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأُدْفُوِيُّ، أنا أَبُو الطَّيِّبِ أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُرَيْرِيُّ إِجَازَةً، نا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ الطَّبَرِيُّ، نا أَبُو كُرَيْبٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: ثنا ابْنُ فُضَيْلٍ، نا عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ، عَنِ الْأَغَرِّ أَبِي مُسْلِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَبِّهِ، تَعَالَى قَالَ: «الْعَظَمَةُ إِزَارِي وَالْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي فَمَنْ نَازَعَنِي وَاحِدًا مِنْهُمَا أَلْقَيْتُهُ فِي جَهَنَّمَ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ اپنے رب تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں، اس نے فرمایا: ”عظمت میرا ازار ہے اور بڑائی میری چادر ہے چنانچہ جس شخص نے ان میں سے کسی ایک کو مجھ سے چھینے کی کوشش کی میں اسے جہنم میں پھینک دوں گا۔“
حدیث نمبر: 1465
1465 - نا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْفَارِسِيُّ، لَفْظًا مِنْ كِتَابِهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ، نا يُوسُفُ أَبُو يَعْقُوبَ الْأَنْبَارِيُّ، نا جَدِّي، نا سُفْيَانُ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنِ الْأَغَرِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَفَعَهُ سُفْيَانُ مَرَّةً إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَوَقَفَهُ مَرَّةً أُخْرَى عَلَى أَبِي هُرَيْرَةَ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: الْكِبْرِيَاءُ رِدَائِي وَالْعَظَمَةُ إِزَارِي فَمَنْ نَازَعَنِي فِيهِمَا أُلْقِهِ فِي النَّارِ "
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سفیان نے اس روایت کو ایک بار نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک مرفوع بیان کیا اور ایک بار سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ تک موقوف بیان کیا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا: بڑائی میری چادر ہے اور عظمت میرا ازار ہے چنانچہ جس شخص نے ان میں سے کوئی مجھ سے چھیننے کی کوشش کی میں اسے آگ میں پھینک دوں گا۔“
وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث میں انسانوں کے لیے غرور و تکبر کی مذمت بیان کی گئی ہے اور انہیں اس کے انجام بد سے خبر دار کیا گیا ہے۔ عظمت و بڑائی اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفات ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کو تمثیل، تعطیل اور تکییف کے بغیر تسلیم کرتے ہیں۔ الحمد للہ عظمت و بڑائی کو ازار اور چادر سے تعبیر کرنے کا مفہوم۔ واللہ اعلم۔ یہ ہے کہ جس طرح یہ دونوں کپڑے پہننے والے کے ساتھ مخصوص ہوتے ہیں مشارکت قبول نہیں کرتے اسی طرح کمال عظمت و بڑائی بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو زیبا ہے اگر مخلوق میں کسی کو وقتی طور پر محدود عظمت و بڑائی حاصل ہے تو یہ اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہے اس لیے انسان کا یہ فرض بنتا ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے نہ کہ اپنی عظمت اور بڑائی کا دعوی ٰکرتے ہوئے تکبر اور غرور کا راستہ اپنا لے۔
ان احادیث میں انسانوں کے لیے غرور و تکبر کی مذمت بیان کی گئی ہے اور انہیں اس کے انجام بد سے خبر دار کیا گیا ہے۔ عظمت و بڑائی اللہ تعالیٰ کی ذاتی صفات ہیں ہم اللہ تعالیٰ کی تمام صفات کو تمثیل، تعطیل اور تکییف کے بغیر تسلیم کرتے ہیں۔ الحمد للہ عظمت و بڑائی کو ازار اور چادر سے تعبیر کرنے کا مفہوم۔ واللہ اعلم۔ یہ ہے کہ جس طرح یہ دونوں کپڑے پہننے والے کے ساتھ مخصوص ہوتے ہیں مشارکت قبول نہیں کرتے اسی طرح کمال عظمت و بڑائی بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو زیبا ہے اگر مخلوق میں کسی کو وقتی طور پر محدود عظمت و بڑائی حاصل ہے تو یہ اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہے اس لیے انسان کا یہ فرض بنتا ہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے نہ کہ اپنی عظمت اور بڑائی کا دعوی ٰکرتے ہوئے تکبر اور غرور کا راستہ اپنا لے۔