کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: اللہ عزوجل نے فرمایا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جو وہ میرے بارے میں رکھتا ہے
حدیث نمبر: 1448
1448 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، أبنا يَعْقُوبُ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا عَمْرُو بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّرْحِ ح وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ، قَالَ: أبنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ إِسْحَاقَ، ثنا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ، قَالَا: ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أبنا أَبُو غَسَّانَ، حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي، وَأَنَا مَعَ عَبْدِي إِذَا ذَكَرَنِي "
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے فرمایا ہے کہ میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوں جو وہ میرے بارے میں رکھتا ہے اور میں اپنے بندے کے ساتھ ہوں جب وہ مجھے یاد کرتا ہے۔“
وضاحت:
تشریح: -
اس میں توبہ کی فضیلت کے علاوہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھنے کی ترغیب ہے لیکن جس طرح بغیر ہل چلائے اور بیچ ہوئے فصل کی پیداوار کی امید رکھنا حماقت ہے اسی طرح اعمال صالحہ کے بغیر اللہ سے اچھی امید وابستہ کرنا بھی نادانی ہے یہ گویا بالواسطہ عمل کی ترغیب ہے کیونکہ عمل کے بغیر کسی بھی چیز کی امید نہیں کی جاسکتی اور یہ ایک فطری بات ہے کہ اچھے عمل کرنے والا اللہ سے اچھی ہی امید وابستہ کرے گا اور برے عمل کرنے والا بری امید اور اسی کے مطابق اللہ کا معاملہ بھی اپنے بندوں کے ساتھ ہوگا اچھی امید رکھنے والوں سے اچھا اور بری امید رکھنے والوں سے برا کیونکہ دونوں کی بنیاد ان کے اپنے اپنے عمل پر ہوگی اور انہی عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزاء ہوگی۔ (ریاض الصالحین: 1/ 405)
اس میں توبہ کی فضیلت کے علاوہ اللہ کے ساتھ حسن ظن رکھنے کی ترغیب ہے لیکن جس طرح بغیر ہل چلائے اور بیچ ہوئے فصل کی پیداوار کی امید رکھنا حماقت ہے اسی طرح اعمال صالحہ کے بغیر اللہ سے اچھی امید وابستہ کرنا بھی نادانی ہے یہ گویا بالواسطہ عمل کی ترغیب ہے کیونکہ عمل کے بغیر کسی بھی چیز کی امید نہیں کی جاسکتی اور یہ ایک فطری بات ہے کہ اچھے عمل کرنے والا اللہ سے اچھی ہی امید وابستہ کرے گا اور برے عمل کرنے والا بری امید اور اسی کے مطابق اللہ کا معاملہ بھی اپنے بندوں کے ساتھ ہوگا اچھی امید رکھنے والوں سے اچھا اور بری امید رکھنے والوں سے برا کیونکہ دونوں کی بنیاد ان کے اپنے اپنے عمل پر ہوگی اور انہی عملوں کے مطابق اچھی یا بری جزاء ہوگی۔ (ریاض الصالحین: 1/ 405)