کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: اگر تم موت اور اس کی رفتار کو دیکھ لو تو امید اور اس کے دھوکے سے ضرور نفرت کرنے لگو
حدیث نمبر: 1435
1435 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ التُّسْتَرِيُّ، أبنا بَحْرُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ زِيَادٍ الْقَرْقُوبِيُّ، ثنا أَبُو سَعِيدٍ الْحَسَنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْمُبَارَكِ الطُّوسِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أُمَيَّةَ، ثنا أَبِي، ثنا نَوْفَلُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْهُنَائِيُّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: وَعَظَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: «لَوْ نَظَرْتُمْ إِلَى الْأَجَلِ وَمَسِيرِهِ لَأَبْغَضْتُمُ الْأَمَلَ وَغُرُورَهُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں وعظ کرتے ہوئے فرمایا: ”اگر تم موت اور اس کی رفتار کو دیکھ لو تو امید اور اس کے دھوکے سے ضرور نفرت کرنے لگو۔“
حدیث نمبر: 1436
1436 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْمُعَدِّلُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدَوِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ، ثنا بِشْرُ بْنُ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ، أبنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْ رَأَيْتُمُ الْأَجَلَ وَمَسِيرِهِ لَأَبْغَضْتُمُ الْأَمَلَ وَغُرُورَهُ، وَمَا مِنْ أَهْلِ بَيْتٍ إِلَّا وَمَلَكُ الْمَوْتِ يَتَعَاهَدُهُمْ فِي كُلِّ يَوْمٍ مَرَّةً، فَمَنْ وَجَدَهُ قَدِ انْقَضَى أَجَلُهُ قَبَضَ رُوحَهُ، فَإِذَا بَكَى أَهْلُهُ وَجَزَعُوا قَالَ: لِمَ تَبْكُونَ وَلِمَ تَجْزَعُونَ؟ فَوَاللَّهِ مَا نَقَصْتُ لَكُمْ عُمْرًا وَلَا حَبَسْتُ لَكُمْ رِزْقًا، وَمَالِي مِنْ ذَنْبٍ، وَلِي إِلَيْكُمْ عَوْدَةٌ ثُمَّ عَوْدَةٌ "
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تم موت اور اس کی رفتار کو دیکھ لو تو امید اور اس کے دھوکے سے ضرور نفرت کرنے لگو۔ کوئی گھر والے ایسے نہیں جن کی ملک الموت روزانہ ایک بار خبرگیری نہ کرتا ہو۔ پھر جس کی عمر پوری ہو چکی ہوتی ہے تو اس کی وہ روح قبض کر لیتا ہے، اس کے گھر والے رونے پیٹنے لگتے ہیں تو وہ کہتا ہے: تم کیوں رو پیٹ رہے ہو؟ اللہ کی قسم! میں نے تمہارے لیے نہ (اس کی) عمر کم کی ہے اور نہ رزق روکا ہے، میرا کیا گناہ ہے؟ مجھے تو تمہارے پاس بار بار آنا ہے۔“