کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: کتنے ہی قیام کرنے والے ایسے ہیں جنہیں سوائے رات بھر جاگنے کے کچھ نہیں ملتا
حدیث نمبر: 1424
1424 - أَخْبَرَنَا قَاضِي الْقُضَاةِ أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ السَّعْدِيُّ وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْبَغْدَادِيُّ قَالَا: ثنا أَبُو أَحْمَدَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُفَسِّرِ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ سَعِيدٍ الْقَاضِي الْمَرْوَزِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، ثنا بَقِيَّةُ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ يَحْيَى الْأَطْرَابُلْسِيُّ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُبَّ قَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ، وَرُبَّ صَائِمٍ لَيْسَ لَهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ وَالْعَطَشُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنے ہی قیام کرنے والے ایسے ہیں جنہیں سوائے رات بھر جاگنے کے کچھ نہیں ملتا اور کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں ان کے روزے سے سوائے بھوک اور پیاس کے کچھ نہیں ملتا۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1424
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث إسناده ضعيف ، وأخرجه المعجم الكبير : 13413، بقیہ بن ولید مدلس کا عنعنہ ہے ۔
حدیث نمبر: 1425
1425 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ أَبِي الْعَوَّامِ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَجَّاجِ، ثنا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الْكَلَاعِيُّ، قَالَ: ثنا زَيْنُ بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «رُبَّ قَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ السَّهَرُ، وَرُبَّ صَائِمٍ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ الْجُوعُ وَالْعَطَشُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنے ہی قیام کرنے والے ایسے ہیں جنہیں ان کے قیام میں سے رات بھر جاگنے ہی کا حصہ ملتا ہے اور کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں ان کے روزے میں سے بھوک اور پیاس ہی کا حصہ ملتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1425
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1997، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3481، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1576، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2762، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1690، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 8402، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8978»
حدیث نمبر: 1426
1426 - وأنا أَبُو عَلِيٍّ الْحَسَنُ بْنُ خَلَفٍ الْوَاسِطِيُّ، نا أَبُو حَفْصٍ عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ شَاهِينَ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بِسْطَامٍ، بِالْأَبْلَةِ، نا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ الْمَكِّيُّ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، عَنِ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رُبَّ صَائِمٍ لَيْسَ حَظُّهُ مِنْ صِيَامِهِ إِلَّا الْجُوعُ وَالْعَطَشُ، وَرُبَّ قَائِمٍ لَيْسَ حَظُّهُ مِنْ قِيَامِهِ إِلَّا السَّهَرُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کتنے ہی روزہ دار ایسے ہیں جنہیں ان کے روزے میں سے بھوک اور پیاس کے سوا کوئی حصہ نہیں ملتا اور کتنے ہی قیام کرنے والے ایسے ہیں جنہیں ان کے قیام میں سے رات بھر جاگنے کے سوا کوئی حصہ نہیں ملتا۔“
وضاحت:
تشریح: -
جو شخص حالت روز ہ میں غیبت گالم گلوچ اور بے ہودہ گوئی سے باز نہ آئے یا افطاری میں حرام چیزوں کا استعمال کرے یا گناہوں سے باز نہ آئے تو اسے دن بھر کی بھوک کے سوا کچھ حاصل نہیں ہوتا لہٰذا روزہ دار کو ان ممنوعہ امور سے اجتناب کرنا چاہیے پھر ایسے تہجد گزار اور قیام اللیل کا اہتمام کرنے والے جو اس میں ریاکاری کرتے ہیں یا مغضوب زمین پر نماز کا اہتمام کرتے ہیں یا فرض نمازیں باجماعت ادا نہیں کرتے انہیں رات کی بیداری کا اجر نہیں ملتا لہٰذا تہجد گزار ایسی عادات ترک کر دے جس سے اجر و ثواب اور اعمال کی قبولیت میں نقص واقع ہوتا ہے۔[صحيح ابن خزيمه: 3 445]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1426
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1997، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 3481، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 1576، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2762، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1690، والبيهقي فى«سننه الكبير» برقم: 8402، وأحمد فى «مسنده» برقم: 8978»