کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: سنو ! کتنی ہی جانیں ایسی ہیں جو دنیا میں تو خوب کھانے پینے والی ، ناز و نعمت میں رہنے والی ہیں لیکن قیامت کے دن بھوکی ننگی ہوں گی
حدیث نمبر: 1423
1423 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ بْنِ النَّحَّاسِ، أبنا أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ جَعْفَرَ السَّعْدِيُّ، ثنا أَبُو يَزِيدَ الْقَرَاطِيسِيُّ، ثنا الْمُعَلَّى بْنُ الْوَلِيدِ، ثنا بَقِيَّةُ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ سِنَانٍ الْكِنْدِيُّ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ، عَنِ ابْنِ الْبُجَيْرِ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: أَصَابَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا جُوعٌ، قَالَ فَوَضَعَ الْحَجَرَ عَلَى بَطْنِهِ، ثُمَّ قَالَ: «أَلَا وَإِنَّ رُبَّ نَفْسٍ طَاعِمَةٍ نَاعِمَةٍ فِي الدُّنْيَا جَائِعَةٍ عَارِيَةٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، أَلَا رُبَّ مُكْرِمٍ نَفْسَهُ وَهُوَ لَهَا مُهِينٌ، أَلَا رُبَّ مُهِينٌ لِنَفْسِهِ وَهُوَ لَهَا مُكْرِمٌ، أَلَا يَا رُبَّ مُتَخَوِّضٍ وَمُتَنَعِّمٍ فِيمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مَا لَهُ عِنْدَ اللَّهِ تَعَالَى مِنْ خَلَاقٍ، أَلَا وَإِنَّ عَمَلَ الْجَنَّةِ حَزْنَةٌ بِرَبْوَةٍ، أَلَا وَإِنَّ عَمَلَ النَّارِ سَهْلَةٌ بِشَهْوَةٍ، أَلَا يَا رُبَّ شَهْوَةَ سَاعَةٍ أَوْرَثَتْ حُزْنًا طَوِيلًا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن جبیر رضی اللہ عنہ جو کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ہیں، کہتے ہیں کہ ایک دن نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سخت بھوک لگی آپ نے اپنے پیٹ پر پتھر رکھ لیا پھر فرمایا: ”سنو! کتنی ہی جانیں ایسی ہیں جو دنیا میں تو خوب کھانے پینے والی، ناز و نعمت میں رہنے والی ہیں لیکن قیامت کے دن بھوکی ننگی ہوں گی۔ سنو! کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اپنے نفس کی عزت کرنے والے ہیں حالانکہ وہ اسے ذلیل کرنے والے ہیں۔ سنو! کتنے ہی لوگ ایسے ہیں جو اپنے نفس کو ذلیل کرنے والے ہیں حالانکہ (حقیقت میں) وہ اس کی عزت کرنے والے ہیں۔ سنو! کتنے ہی ایسے ہیں جو ان چیزوں میں جو اللہ نے اپنے رسول کو بطور فیء عطا کی ہیں زبردستی گھسنے والے عیش وعشرت چاہنے والے ہیں حالانکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کا کوئی حصہ نہیں۔ سنو! بے شک جنت کا عمل سخت اونچی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ سنو! بے شک دوزخ کا عمل آسان لذت و شہوت کے ساتھ گھرا ہوا ہے۔ سنو! کتنی ہی ایسی خواہشات ہیں جن کی لذت ایک گھڑی کی ہے لیکن وہ لمبے عرصے کے غم کا وارث بنا دیتی ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1423
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدا ، شعب الايمان : 1388 ، تاريخ دمشق : 4/123»
سعید بن سنان کندی متروک ہے ۔