کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: بعض اوقات جس شخص کو حدیث پہنچائی جاتی ہے وہ ( براہ راست ) سننے والے سے زیادہ یادر کھنے والا ہوتا ہے
حدیث نمبر: 1418
1418 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بُنْدَارٍ، ثنا أَبُو عَرُوبَةَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ خَالِدٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التُّسْتَرِيُّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِمِنًى: «رُبَّ مُبَلَّغٍ أَوْعَى مِنْ سَامِعٍ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور اس وقت آپ منیٰ میں تھے: ”بعض اوقات جس شخص کو حدیث پہنچائی جاتی ہے وہ (براہ راست) سننے والے سے زیادہ یاد رکھنے والا ہوتا ہے۔“
حدیث نمبر: 1419
1419 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، أنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ يَعْنِي ابْنَ فِرَاسٍ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، نا أَبُو عُبَيْدٍ، نا حَجَّاجٌ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَذَكَرْتُهُ مُخْتَصَرًا
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ . . . اور میں نے اسے مختصر بیان کیا ہے۔
حدیث نمبر: 1420
1420 - وَأَنَاهُ الْحَسَنُ بْنُ فِرَاسٍ الْمَكِّيُّ بِمَكَّةَ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ هُوَ الْمَكِّيُّ، نا حَجَّاجٌ، نا حَمَّادٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
یہ روایت ایک دوسری سند سے بھی سماک بن حرب سے ان کی سند کے ساتھ اسی طرح مروی ہے۔
وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث میں حدیث نبوی کی تبلیغ و تعلیم کا حکم فرمایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص براہ راست کسی سے کوئی صحیح حدیث سنے تو اسے چاہیے کہ اس حدیث کو جلد از جلد دوسرے لوگوں تک پہنچا دے کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جن کو آگے حدیث پہنچائی جاتی ہے وہ پہنچانے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے اور مسائل اخذ کرنے والے ہوتے ہیں۔
ان احادیث میں حدیث نبوی کی تبلیغ و تعلیم کا حکم فرمایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص براہ راست کسی سے کوئی صحیح حدیث سنے تو اسے چاہیے کہ اس حدیث کو جلد از جلد دوسرے لوگوں تک پہنچا دے کیونکہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جن کو آگے حدیث پہنچائی جاتی ہے وہ پہنچانے والوں سے زیادہ یاد رکھنے والے اور مسائل اخذ کرنے والے ہوتے ہیں۔