کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ جن کی خوراک کا ذمہ دار ہے انہیں ضائع کر دے
حدیث نمبر: 1411
1411 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، أبنا ابْنُ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَقُوتُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ جن کی خوراک کا ذمہ دار ہے انہیں ضائع کر دے۔“
حدیث نمبر: 1412
1412 - أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الْبَزَّازُ، أنا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ فَهْدٍ، نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُسْلِمٍ الْقَسْمَلِيُّ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «كَفَى بِالْمَرْءِ. .» وَذَكَرَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ بے شک نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی کو یہی کافی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 1413
1413 - أَنَاهُ هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ بُنْدَارٍ، نا أَبُو عَرُوبَةَ، نا أَبُو كُرَيْبٍ، نا أَبُو بَكْرٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي شَيْبَةَ، نا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ وَهْبِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «كَفَى بِالْمَرْءِ إِثْمًا أَنْ يُضَيِّعَ مَنْ يَعُولُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”آدمی کے گناہ گار ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ جن کی کفالت کرتا ہے انہیں ضائع کر دے۔“
وضاحت:
تشریح: -
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ انسان کے ذمہ جن افراد کی کفالت ہے ان کا خرچ اور ضروریات پوری کرنا اس پر واجب ہیں۔ اس کے واجب ہونے کی دلیل یہ ہے کہ انسان ترک واجب پر ہی گناہگار ہوتا ہے اور انسان اپنے اہل وعیال، اولاد، اپنے غلاموں کا کفیل ہوتا ہے، ان کی روزی، خرچ اور ان کی ضروریات پوری کرنا اس پر واجب ہے۔ اسی طرح ہر ذی روح کی غذا کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنایا ہے۔ جو بھی انسان کے تحت ہو اس کی غذا کا ذمہ دار اسے بنایا گیا ہے اگر ادا نہ کرے گا تو سزا یاب ہوگا۔
حدیث میں آتا ہے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ” ایک عورت نے بلی کو بھوکا مار دیا تھا نہ تو اسے کھلاتی تھی اور نہ اسے پلاتی تھی اور نہ ہی اسے جھوڑتی تھی کہ وہ زمین ا سے اپنا رزق کھا لے اس کی پاداش میں اس عورت کو دوزخ میں بھیجا گیا۔ “ [بخاري: 3482، كتاب احاديث الانبياء، مسلم: 2282، تفهيم الاسلام: 2/ 507]
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ انسان کے ذمہ جن افراد کی کفالت ہے ان کا خرچ اور ضروریات پوری کرنا اس پر واجب ہیں۔ اس کے واجب ہونے کی دلیل یہ ہے کہ انسان ترک واجب پر ہی گناہگار ہوتا ہے اور انسان اپنے اہل وعیال، اولاد، اپنے غلاموں کا کفیل ہوتا ہے، ان کی روزی، خرچ اور ان کی ضروریات پوری کرنا اس پر واجب ہے۔ اسی طرح ہر ذی روح کی غذا کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ نے انسان کو بنایا ہے۔ جو بھی انسان کے تحت ہو اس کی غذا کا ذمہ دار اسے بنایا گیا ہے اگر ادا نہ کرے گا تو سزا یاب ہوگا۔
حدیث میں آتا ہے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ” ایک عورت نے بلی کو بھوکا مار دیا تھا نہ تو اسے کھلاتی تھی اور نہ اسے پلاتی تھی اور نہ ہی اسے جھوڑتی تھی کہ وہ زمین ا سے اپنا رزق کھا لے اس کی پاداش میں اس عورت کو دوزخ میں بھیجا گیا۔ “ [بخاري: 3482، كتاب احاديث الانبياء، مسلم: 2282، تفهيم الاسلام: 2/ 507]