کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: حاکم جب بھڑکتا ہے تو شیطان اس پر مسلط ہو جاتا ہے
حدیث نمبر: 1399
1399 - أَخْبَرَنَا هِبَةُ اللَّهِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَاضِي، أبنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَمْدَانَ الضِّرَابُ، ثنا عَدْنَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ طُولُونَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ وَكِيعٌ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا أُمَيَّةُ بْنُ شِبْلٍ، وَعَمْرٌو بْنُ عَوْنٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ عَطِيَّةَ السَّعْدِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا اسْتَشَاطَ السُّلْطَانُ تُسَلَّطَ الشَّيْطَانُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب غلام اپنے مالک کی خیر خواہی کرے اور اپنے رب کی اچھے طریقے سے عبادت کرے تو اس کے لیے دہرا اجر ہے۔“
وضاحت:
فائدہ: -
ابو وائل قاص کہتے ہیں کہ ہم عروہ بن محمد سعدی کے ہاں گئے ایک آدمی نے ان سے کوئی بات کی تو انہیں غصہ آ گیا وہ اٹھے اور وضو کیا پھر واپس آئے اور بیان کیا کہ مجھے میرے والد نے میرے دادا عطیہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بے شک غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ سے پیدا کیا گیا ہے اور آگ کو پانی بجھاتا ہے سو جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو اسے چاہیے کہ وضو کر لے۔ [أبو داود: 4784، وسند حسن]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1399
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه أحمد : ، المعجم الكبير : 444 ، جز : 17»
اميہ بن شبل اور عمرو بن عون کا عروہ بن محمد سے سماع ثابت نہیں ۔ «المراسيل لابن ابي حاتم : 17»