کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتا ہے تو اسے دنیا سے اس طرح بچاتا ہے
حدیث نمبر: 1397
1397 - أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا حَمَاهُ الدُّنْيَا كَمَا يَظَلُّ أَحَدُكُمْ يَحْمِي سَقِيمَهُ الْمَاءَ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔
حدیث نمبر: 1398
1398 - أنا أَبُو إِسْحَاقَ إِبْرَاهِيمُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْغَازِي، نا حَمْزَةُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَافِظُ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْقَاسِمِ، نا عُثْمَانُ بْنُ طَالُوتَ وَهُوَ ابْنُ عَبَّادٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، نا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ، عَنْ قَتَادَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " وَذَكَرَهُ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عطیہ سعدی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”حاکم جب بھڑکتا ہے تو شیطان اس پر مسلط ہو جاتا ہے۔“
وضاحت:
تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ جس طرح کسی کا کوئی قریبی جب کسی ایسے مرض میں مبتلا ہو جائے جس میں پانی کا استعمال اس کے لیے سخت نقصان دہ ہو جیسے استسقاء، ضعف معدہ یا اس قسم کی کوئی دوسری بیماری جس میں مریض کے لیے پانی مضر ہو تو ایسے موقع پر مریض کے مطالبہ پر بھی پانی نہیں دیا جاتا کیونکہ مریض کی زندگی پیاری ہوتی ہے اس لیے اس بات کی پوری کوشش کی جاتی ہے کہ مریض پانی کے استعمال سے دور رہے تاکہ جلد از جلد صحت یاب ہو جائے۔ بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی جب کسی بندے کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے اور اسے اخروی کامیابی پر فائز فرمانا چاہتا ہے تو اسے دنیاوی مال و دولت، جاہ و منصب اور ہر اس چیز سے محفوظ رکھتا ہے جو اس کے دین کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے اور آخرت میں نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
مطلب یہ ہے کہ جس طرح کسی کا کوئی قریبی جب کسی ایسے مرض میں مبتلا ہو جائے جس میں پانی کا استعمال اس کے لیے سخت نقصان دہ ہو جیسے استسقاء، ضعف معدہ یا اس قسم کی کوئی دوسری بیماری جس میں مریض کے لیے پانی مضر ہو تو ایسے موقع پر مریض کے مطالبہ پر بھی پانی نہیں دیا جاتا کیونکہ مریض کی زندگی پیاری ہوتی ہے اس لیے اس بات کی پوری کوشش کی جاتی ہے کہ مریض پانی کے استعمال سے دور رہے تاکہ جلد از جلد صحت یاب ہو جائے۔ بالکل اسی طرح اللہ تعالیٰ بھی جب کسی بندے کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے اور اسے اخروی کامیابی پر فائز فرمانا چاہتا ہے تو اسے دنیاوی مال و دولت، جاہ و منصب اور ہر اس چیز سے محفوظ رکھتا ہے جو اس کے دین کے لیے نقصان دہ ہوتی ہے اور آخرت میں نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔