حدیث نمبر: 1375
1375 - أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الْأَنْبَارِيُّ، ثنا أَبُو الْعَبَّاسِ أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الرَّازِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو الْبَزَّارُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ، ثنا الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ أَبِي الْعَلَاءِ، عَنْ نُعَيْمِ بْنِ قَعْنَبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَثَلُ الْمَرْأَةِ كَالضِّلَعِ، إِنْ أَرَدْتَ أَنَّ تُقِيمَهُ كَسَرْتَهُ، وَإِنِ اسْتَمْتَعْتَ اسْتَمْتَعْتَ بِهِ وَفِيهِ أَوَدٌ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت کی مثال ٹیڑھی پسلی کی مانند ہے اگر تو اسے سیدھا کرنا چاہے گا تو اسے توڑ بیٹھے گا اور اگر فائدہ اٹھائے گا تو اسی ٹیڑھے پن کی حالت میں اس سے فائدہ اٹھائے۔“
حدیث نمبر: 1376
1376 - وأنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، نا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسٍ، حَدَّثَنِي يَعْقُوبُ بْنُ حُمَيْدٍ، نا الْمُغِيرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «الْمَرْأَةُ كَالضِّلَعِ إِنْ تُقِمْهُ تَكْسِرْهُ، وَإِنْ تَسْتَمْتِعْ بِهِ تَسْتَمْتِعْ بِهِ وَفِيهِ عِوَجٌ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عورت ٹیڑھی پسلی کی مانند ہے اگر تو اسے سیدھا کرے گا تو اسے توڑ بیٹھے گا اور اگر اس سے فائدہ اٹھائے تو اسی ٹیڑھے پن کی حالت میں اس سے فائدہ اٹھائے۔“
وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث میں عورت کا ذکر ایک تمثیل سے کیا گیا ہے اور ان کے اخلاق میں جو کجی ہے اس کی مثال پسلی کے ٹیڑھے پن کے ساتھ دی گئی ہے۔ پسلی کو اگر سیدھا کرنا چاہو گے تو کامیاب نہیں ہو سکو گے، توڑ بیٹھو گے اور اگر اسی حالت میں چھوڑ دو گے تو وہ ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہے گی کبھی سیدھی نہ ہوگی یہی حال عورت کا ہے اس کے مزاج اور طبیعت میں جو کجی ہے، مرد اسے کبھی بھی برداشت نہیں کر سکتا لیکن عورت کے بغیر اس کا گزارہ بھی نہیں، اس لیے صبر اور حکمت سے کام لینا چاہیے اس کے بغیر کام چل ہی نہیں سکتا، گھر میدان جنگ بن جائے گا اور نتیجہ طلاق کی صورت میں ظاہر ہوگا جو نہ صرف عورت کے لیے تباہی کا باعث ہوگا بلکہ مرد کے لیے بھی نقصان دہ اور اضطراب انگیز ہوگا۔
ان احادیث میں عورت کا ذکر ایک تمثیل سے کیا گیا ہے اور ان کے اخلاق میں جو کجی ہے اس کی مثال پسلی کے ٹیڑھے پن کے ساتھ دی گئی ہے۔ پسلی کو اگر سیدھا کرنا چاہو گے تو کامیاب نہیں ہو سکو گے، توڑ بیٹھو گے اور اگر اسی حالت میں چھوڑ دو گے تو وہ ہمیشہ ٹیڑھی ہی رہے گی کبھی سیدھی نہ ہوگی یہی حال عورت کا ہے اس کے مزاج اور طبیعت میں جو کجی ہے، مرد اسے کبھی بھی برداشت نہیں کر سکتا لیکن عورت کے بغیر اس کا گزارہ بھی نہیں، اس لیے صبر اور حکمت سے کام لینا چاہیے اس کے بغیر کام چل ہی نہیں سکتا، گھر میدان جنگ بن جائے گا اور نتیجہ طلاق کی صورت میں ظاہر ہوگا جو نہ صرف عورت کے لیے تباہی کا باعث ہوگا بلکہ مرد کے لیے بھی نقصان دہ اور اضطراب انگیز ہوگا۔