کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: قرآن کی مثال اس اونٹ کی مانند ہے جس کا گھٹنا بندھا ہوا ہو ، اگر اس کا مالک اسے باندھے رکھے تو اسے روکے رکھے گا
حدیث نمبر: 1370
1370 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ عِيسَى بْنِ مَعْرُوفٍ، أبنا الْحَسَنُ بْنُ رَشِيقٍ، أبنا أَبُو الْعَلَاءِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْكُوفِيُّ، ثنا أَبُو بَكْرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْقُرْآنِ مَثَلُ الْإِبِلِ الْمُعَلَّقَةِ إِنْ عَقَلَهَا صَاحِبُهَا أَمْسَكَهَا، وَإِنْ تَرَكَهَا ذَهَبَتْ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قرآن کی مثال اس اونٹ کی مانند ہے جس کا گھٹنا بندھا ہوا ہو، اگر اس کا مالک اسے باندھے رکھے تو اسے روکے رکھے گا اور اگر اسے چھوڑ دے تو وہ (بھاگ کر) چلا جائے گا۔“
وضاحت:
تشریح: -
بخاری و مسلم کی روایت یوں ہے: قرآن پڑھنے والے کی مثال اس شخص کی مانند ہے جس کے اونٹ بندھے ہوئے ہوں اگر وہ ان کا خیال رکھے گا تو انہیں روکے رکھے گا اور اگر انہیں (کھلا) چھوڑ دے گا تو وہ (بھاگ کر) چلے جائیں گے۔
مطلب یہ ہے کہ جب تک قرآن مجید کی تلاوت کی جاتی رہے گی وہ یاد رہے گا اور جب اس کی تلاوت چھوڑ دی جائے گی تو وہ بھول جائے گا۔ اس لیے قرآن مجید کو مسلسل پڑھتے رہنا چاہیے بالخصوص حفاظ کرام کو چاہیے کہ حفظ کرنے کے بعد روزانہ با قاعدگی کے ساتھ اسے پڑھا کریں کیونکہ اگر منزل با قاعدگی سے نہ پڑھی جائے تو قرآن مجید بھول جاتا ہے۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1370
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه البخاري فى «صحيحه» برقم: 5031، ومسلم فى «صحيحه» برقم: 789، ومالك فى «الموطأ» برقم: 435 ، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 3783، وأحمد فى «مسنده» برقم: 4756»