کتب حدیثمسند الشهابابوابباب: دل کی مثال زمین پر پڑے پر کی مانند ہے جسے ہوائیں الٹتی چلتی رہتی ہیں
حدیث نمبر: 1369
1369 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ الصَّفَّارُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْقَلْبِ مَثَلُ رِيشَةٍ بِأَرْضٍ تُقَلِّبُهَا الرِّيَاحُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دل کی مثال زمین پر پڑے پر کی مانند ہے جسے ہوائیں الٹتی پلٹتی رہتی ہیں۔“
وضاحت:
فائدہ: -
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ (عربی میں) دل کا نام «قلب» اس کے الٹ پلٹ (ادھر ادھر) ہونے کی وجہ سے رکھا گیا ہے اور دل کی مثال چٹیل میدان میں پڑے ہوئے پر کی مانند ہے۔ (ابن الجعد: 1350 وسندہ صحیح)
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1369
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن الاعرابي : 858 ، شعب الايمان : 736 ، معجم الشيوخ : 143»
اعمش مدلس کا عنعنہ ہے ۔ اس میں ایک اور علت بھی ہے ۔