حدیث نمبر: 1334
1334 - أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ النَّحَّاسُ، أبنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، ثنا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ لِأَبِي مَسْعُودٍ أَوْ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ لِأَبِي عَبْدِ اللَّهِ: كَيْفَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي زَعَمُوا؟ قَالَ سَمِعْتُهُ يَقُولُ: «بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ زَعَمُوا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوعبداللہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے یا ابومسعود نے ابوعبداللہ سے پوچھا کہ «زعموا» کے بارے میں آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فرماتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بارے میں یہ فرماتے سنا: ”زعموا آدمی کی بہت بری سواری ہے۔“
حدیث نمبر: 1335
1335 - وَأَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْفَقِيهُ الشَّافِعِيُّ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ هِشَامُ بْنُ أَبِي خَلِيفَةَ الرُّعَيْنِيُّ، أبنا أَبُو جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَيْمُونٍ الْبَغْدَادِيُّ أَبُو بَكْرٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ زَعَمُوا» قَالَ الْقَاضِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامَةَ بْنِ جَعْفَرٍ الْقُضَاعِيُّ: أَظُنُّ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ الْمَذْكُورَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ حُذَيْفَةَ بْنَ الْيَمَانِ، لِأَنَّهُ كَانَ مَعَ أَبِي مَسْعُودٍ بِالْكُوفَةِ، وَكَانُوا يَتَجَالَسُونَ، وَيَسْأَلُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا، وَكُنْيَةُ حُذَيْفَةَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
ابوقلابہ کہتے ہیں کہ مجھے سیدنا ابوعبداللہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زعموا آدمی کی بہت بری سواری ہے۔“ قاضی ابوعبداللہ محمد بن سلامہ بن جعفر قضاعی نے کہا: میرے گمان کے مطابق اس حدیث میں مذکور ابوعبداللہ سے مراد سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ ہیں کیونکہ وہ کوفہ میں سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ کے ساتھ رہتے تھے، آپس میں اٹھتے بیٹھتے تھے اور ایک دوسرے سے پوچھتے رہتے تھے۔ اور سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابوعبداللہ تھی۔
حدیث نمبر: 1336
1336 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَعِيدِ بْنِ سَخْتَوَيْهِ، بِمَكَّةَ، أنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ الْمَرْوَزِيُّ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، نا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ، قَالَ: قِيلَ لَهُ: مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي زَعَمُوا؟ قَالَ: «بِئْسَ مَطِيَّةُ الرَّجُلِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان سے پوچھا گیا: آپ نے ”زعموا“ کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیا فرماتے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: ”یہ آدمی کی بہت بری سواری ہے۔“
وضاحت:
تشریح: -
”زعموا“ کا معنی ہے: لوگوں کا خیال ہے، لوگ کہتے ہیں۔ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب انہوں نے کسی بے بنیاد بات کو بیان کرنا ہوتا ہے تو یوں کہہ دیتے ہیں کہ لوگ یہ کہتے ہیں یا فلاں کے متعلق لوگوں کا یہ خیال ہے، وغیرہ وغیرہ۔ جھٹلائے جانے کے خوف سے کسی شخص کا نام لے کر تو کہا نہیں جاتا کہ یہ بات فلاں نے کہی ہے بلکہ لوگ کہتے ہیں یا بیان کیا جاتا ہے کہہ کر سنی سنائی اور بے اصل باتوں کو بلا تحقیق و تفتیش پھیلا دیتے ہیں۔ جس طرح سواری پر چڑھ کر آدمی اپنی منزل مقصود کی طرف روانہ ہوتا ہے اسی طرح اس انداز میں بات کر کے آدمی جدھر کو چاہے نکل جاتا ہے، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بری سواری کہا ہے اور ہمیں یہ نصیحت فرمائی ہے کہ نقل و بیان اور روایات و حکایات کے سلسلے میں پوری احتیاط ملحوظ رکھو اور کسی بات کو بلا تحقیق بیان نہ کرو۔
”زعموا“ کا معنی ہے: لوگوں کا خیال ہے، لوگ کہتے ہیں۔ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ جب انہوں نے کسی بے بنیاد بات کو بیان کرنا ہوتا ہے تو یوں کہہ دیتے ہیں کہ لوگ یہ کہتے ہیں یا فلاں کے متعلق لوگوں کا یہ خیال ہے، وغیرہ وغیرہ۔ جھٹلائے جانے کے خوف سے کسی شخص کا نام لے کر تو کہا نہیں جاتا کہ یہ بات فلاں نے کہی ہے بلکہ لوگ کہتے ہیں یا بیان کیا جاتا ہے کہہ کر سنی سنائی اور بے اصل باتوں کو بلا تحقیق و تفتیش پھیلا دیتے ہیں۔ جس طرح سواری پر چڑھ کر آدمی اپنی منزل مقصود کی طرف روانہ ہوتا ہے اسی طرح اس انداز میں بات کر کے آدمی جدھر کو چاہے نکل جاتا ہے، اس وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے بری سواری کہا ہے اور ہمیں یہ نصیحت فرمائی ہے کہ نقل و بیان اور روایات و حکایات کے سلسلے میں پوری احتیاط ملحوظ رکھو اور کسی بات کو بلا تحقیق بیان نہ کرو۔