حدیث نمبر: 1318
1318 - أَخْبَرَنَا الْخَصِيبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، ثنا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ أَحْمَدَ النَّسَائِيُّ، أبنا أَبِي، أبنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيمِ، ثنا أَبُو الرَّبِيعِ سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ، ثنا الزُّبَيْدِيُّ، أبنا الزُّهْرِيُّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: «لَا طِيَرَةَ، وَلَكِنْ نِعْمَ الشَّيْءُ الْفَأْلُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”بدشگونی نہیں ہے اور لیکن فال کیا ہی اچھی چیز ہے۔“
وضاحت:
فائدہ: -
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدشگونی نہیں ہے اور اس کی بہتر صورت فال ہے۔ “ صحابی نے عرض کیا: اللہ کے رسول: فال کیا ہے؟ فرمایا: ”وہ اچھا کلمہ جسے تم میں سے کوئی سنتا ہے۔ “ [بخاري: 5755]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بدشگونی نہیں ہے اور اس کی بہتر صورت فال ہے۔ “ صحابی نے عرض کیا: اللہ کے رسول: فال کیا ہے؟ فرمایا: ”وہ اچھا کلمہ جسے تم میں سے کوئی سنتا ہے۔ “ [بخاري: 5755]