کتب حدیث ›
مسند الشهاب › ابواب
› باب: اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند کرتا ہے جو خرید تے ، بیچتے ، ادا کرتے اور طلب کرتے وقت نرم رویہ اختیار کرے
حدیث نمبر: 1299
1299 - أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ الْمَيْمُونِ النَّصِيبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُظَفَّرِ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ رُمَيْسٍ الْقَصْرِيُّ، مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ مَعْبَدِ بْنِ نُوحٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ فَرُّوخَ، عَنْ عُثْمَانَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَحَبَّ اللَّهُ عَبْدًا سَمْحًا بَائِعًا وَمُشْتَرِيًا، وَقَاضِيًا وَمُقْتَضِيًا»
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس بندے کو پسند کرتا ہے جو خریدتے، بیچتے، ادا کرتے اور طلب کرتے وقت نرم رویہ اختیار کرے۔“
حدیث نمبر: 1300
1300 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا ابْنُ شَهْرَيَارَ، وَابْنُ رِيذَةَ، قَالَا: نا الطَّبَرَانِيُّ، نا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ، نا عَلِيُّ بْنُ عَيَّاشٍ الْحِمْصِيُّ، أنا أَبُو غَسَّانَ مُحَمَّدُ بْنُ مُطَرِّفٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «رَحِمَ اللَّهُ عَبْدًا سَمْحًا قَاضِيًا وَسَمْحًا مُقْتَضِيًا» ، قَالَ الطَّبَرَانِيُّ: لَمْ يَرْوِهِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ إِلَّا أَبُو غَسَّانَ
ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس بندے پر رحم فرمائے جو ادا کرتے وقت نرم رویہ اختیار کرے اور طلب کرتے وقت بھی نرم رویہ رکھے۔“ طبرانی نے کہا: اسے محمد بن منکدر سے ابوغسان کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کیا۔
وضاحت:
تشریح: -
خرید و فروخت کے وقت نرمی کا مطلب یہ ہے کہ خریدتے وقت ایسا رویہ اختیار کرے جس سے بیچنے والے کو کوئی نقصان نہ ہو اسی طرح بیچتے وقت ایسا انداز اپنائے جس سے گاہک کو تکلیف نہ ہوحتٰی کہ خریدار سودا واپس کرنا چاہے تو اسے واپس کر لے۔ ایک دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ خریدتے وقت قیمت اصل سے زیادہ دے اور بیچتے وقت قیمت کے مقابلے میں سودا زیادہ دے، علاوہ ازیں کسی سے اپنا حق لینا ہو تو اس کے مطالبے میں بھی سختی کی بجائے نرمی سے کام لیا جائے، ادب و احترام کے دائرے سے تجاوز نہ کیا جائے، غریب ہو تو اس کو مہلت دے یا پھر قرض معاف ہی کر دے۔ ﴿وَأَن تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ﴾ (البقره: 280)۔ (ریاض الصالحين: 2132)
خرید و فروخت کے وقت نرمی کا مطلب یہ ہے کہ خریدتے وقت ایسا رویہ اختیار کرے جس سے بیچنے والے کو کوئی نقصان نہ ہو اسی طرح بیچتے وقت ایسا انداز اپنائے جس سے گاہک کو تکلیف نہ ہوحتٰی کہ خریدار سودا واپس کرنا چاہے تو اسے واپس کر لے۔ ایک دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ خریدتے وقت قیمت اصل سے زیادہ دے اور بیچتے وقت قیمت کے مقابلے میں سودا زیادہ دے، علاوہ ازیں کسی سے اپنا حق لینا ہو تو اس کے مطالبے میں بھی سختی کی بجائے نرمی سے کام لیا جائے، ادب و احترام کے دائرے سے تجاوز نہ کیا جائے، غریب ہو تو اس کو مہلت دے یا پھر قرض معاف ہی کر دے۔ ﴿وَأَن تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَّكُمْ﴾ (البقره: 280)۔ (ریاض الصالحين: 2132)