مسند الشهاب
— احادیث1401 سے 1499
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ باب: اے اللہ ! میرے وہ گناہ معاف فرما جو میں نے غلطی سے کیے اور جو جان بوجھ کر کیے ، جو چھپ کر کیے اور جو علانیہ کیے ، جو لا علمی میں کیے اور جو جانتے بوجھتے ہوئے کیے
1480 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدُوسٍ، نا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، نا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، نا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، نا مَنْصُورُ بْنُ الْمُعْتَمِرِ، حَدَّثَنِي رِبْعِيُّ بْنُ حِرَاشٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، أَنَّهُ قَالَ: جَاءَ حُصَيْنٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَبْلَ أَنْ يُسْلِمَ فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، عَبْدُ الْمُطَّلِبِ خَيْرٌ لِقَوْمِهِ، كَانَ يُطْعِمُ الْكَبِدَ وَالسَّنَامَ، وَأَنْتَ تَنْحَرُهُمْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ، ثُمَّ إِنَّ حَصِينًا قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا تَأْمُرُنِي أَنْ أَقُولَ؟ فَقَالَ: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَعْزِمَ لِي عَلَى رُشْدِ أَمْرِي» ، قَالَ: ثُمَّ إِنَّ حَصِينًا أَسْلَمَ بَعْدُ فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي كُنْتُ سَأَلْتُكَ الْمَرَّةَ الْأُولَى، أَلَا وَأَقُولُ لَكَ مَا تَأْمُرُنِي أَنْ أَقُولَ؟ قَالَ: «قُلِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا أَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ، وَمَا جَهِلْتُ وَمَا عَلِمْتُ»سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ حصین اسلام قبول کرنے سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! عبدالمطلب اپنی قوم کے لیے بہتر تھا وہ (جانوروں کی) کلیجی اور کوہان کا گوشت کھلایا کرتا تھا جبکہ آپ تو ان (جانوروں) کو مکمل ذبح کر دیتے ہیں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اللہ نے چاہا جواب دیا۔ پھر حصین کہنے لگا: محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)! آپ مجھے کیا پڑھنے کا حکم دیتے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اے اللہ! بے شک میں اپنے نفس کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور میں اس بات کا تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے میرے بھلائی کے کام پر پختگی عطا فرما دے۔“ کہتے ہیں: پھر اس کے بعد حصین اسلام لے آیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا: بے شک میں نے پہلی مرتبہ بھی آپ سے سوال کیا تھا اور اب بھی آپ سے سوال کرتا ہوں کہ آپ مجھے کیا پڑھنے کا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کہو: ”اے اللہ! میرے وہ گناہ معاف فرما جو میں نے چھپ کر کیے اور جو علانیہ کیے، جو غلطی سے کیے اور جو جان بوجھ کر کیے، جو لاعلمی میں کیے اور جو جانتے بوجھتے ہوئے کیے۔“
ان احادیث میں نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے امت کو ملنے والی دو جامع دعاؤں کا ذکر ہے: ① دانستہ اور نادانستہ، چھپ چھپا کر اور کھلے عام ہر طرح کے گناہوں کی اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگنے کی دعا: «اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا أَخْطَأْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، وَمَا جَهِلْتُ وَمَا تَعَمَّدْتُ»
② نفس کے شر سے اللہ تعالیٰ ٰ ٰکی پناہ مانگنے کی دعا کیونکہ نفس انسان کو رشد و بھلائی کی طرف نہیں آنے دیتا لہٰذا دعا سیکھائی گئی کہ یا اللہ! نفس کے شرسے بچا کر مجھے رشد وہدایت دے اور اس پر پختگی عطا فرما۔ «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ نَفْسِي وَأَسْأَلُكَ أَنْ تَعْزِمَ لِي عَلَى رُشْدِ أَمْرِي»