حدیث نمبر: 1457
1457 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ، نا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، نا عَبَّادُ بْنُ مُوسَى الْخُتُلِّيُّ، نا طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ أَبِي حَمْزَةَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " قَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: مَنْ آذَى لِي وَلِيًّا فَقَدِ اسْتَحَلَّ مَحَارِمِي، وَمَا تَقَرَّبَ إِلَيَّ عَبْدٌ بِمِثْلِ أَدَاءِ فَرَائِضَ، وَإِنَّ عَبْدِي لَيَتَقَرَّبُ إِلَيَّ بِالنَّوَافِلِ حَتَّى أُحِبَّهُ، إِنْ دَعَانِي أَجَبْتُهُ، وَإِنْ سَأَلَنِي أَعْطَيْتُهُ، وَمَا تَرَدَّدْتُ عَنْ شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ تَرَدُّدِي عَنْ مَوْتِهِ، لِأَنَّهُ يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ "
ترجمہ:محمد ارشد کمال

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا: جس نے میرے کسی ولی کو تکلیف دی اس نے میری حرام کردہ چیزوں کو حلال کر لیا اور فرائض کی ادائیگی جیسا کسی بندے نے میرا قرب حاصل نہیں کیا اور بے شک میرا بندہ نوافل کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں (پھر) اگر وہ مجھے پکارے تو میں اسے جواب دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے عطا کرتا ہوں اور میں کسی چیز سے جسے میں کرنے والا ہوں ایسا تردد نہیں کرتا جیسا اس (اپنے بندے) کی موت سے کرتا ہوں کیونکہ وہ موت کو (بوجہ تکلیف جسمانی) ناپسند کرتا ہے اور میں بھی اسے تکلیف دینا ناپسند کرتا ہوں۔“

وضاحت:
فائدہ: -
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بے شک اللہ نے فرمایا: جس نے میرے کسی ولی سے دشمنی کی تو بے شک میں اس سے اعلان جنگ کرتا ہوں اور میرا بندہ جن جن عبادات کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے ان میں سے وہ عبادت مجھے بہت محبوب ہے جو میں نے اس پر فرض کی ہے اور میرا بندہ نوافل کے ذریعے مسلسل میرا قرب حاصل کرتا رہتا ہے حتیٰ کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں پھر جب میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں تو میں اس کا کان بن جاتا ہوں جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں جس سے وہ چلتا ہے اور اگر وہ مجھ سے مانگے تو میں اسے ضرور دیتا ہوں اور اگر وہ مجھ سے پناہ طلب کرے تو میں اسے پناہ دیتا ہوں اور میں کسی کام میں جسے میں کرنے والا ہوں ایسا تردد نہیں کرتا جیسا تردد مومن کی روح قبض کرنے میں کرتا ہوں (کیونکہ) وہ موت کو (بوجہ تکلیف جسمانی) نا پسند کرتا ہے اور میں بھی اسے تکلیف دینا نا پسند کرتا ہوں۔ " [بخاري: 6502]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1457
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه أحمد : 256/6 ، الاولياء : 45 ، كشف الاستار : 3647»
ابوحمزہ عبد الواحد ضعیف ہے ۔