حدیث نمبر: 1456
1456 - أَخْبَرَنَا الْمُحْسِنُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْكِرَامِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْحَسَنِ الرَّازِيُّ، ثنا سَلَامَةُ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّمْلِيُّ، ثنا هِشَامُ بْنُ عُمَارَةَ، قَالَ: ثنا صَدَقَةُ، عَنْ هِشَامٍ الْكِنَانِيِّ، عَنْ أَنَسٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنْ جِبْرِيلَ، عَلَيْهِ السَّلَامُ، عَنِ اللَّهِ، تَبَارَكَ وَتَعَالَى قَالَ: " يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: مَنْ أَهَانَ لِي وَلِيًّا فَقَدْ بَارَزَنِي بِالْمُحَارَبَةِ، وَمَا رَدَدْتُ فِي شَيْءٍ أَنَا فَاعِلُهُ مَا رَدَدْتُ فِي قَبْضِ نَفْسِ عَبْدِي الْمُؤْمِنِ، يَكْرَهُ الْمَوْتَ وَأَكْرَهُ مَسَاءَتَهُ، وَلَا بُدَّ لَهُ مِنْهُ "
ترجمہ:محمد ارشد کمال

سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جبریل علیہ السلام سے، وہ اللہ تبارک وتعالیٰ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے: ”جس نے میرے کسی ولی کی اہانت کی تو بے شک اس نے مجھے کھلے عام جنگ کی دعوت دی اور میں کسی چیز میں جسے میں کرنے والا ہوں اتنا تردد نہیں کرتا جتنا اپنے مومن بندے کی روح قبض کرنے میں کرتا ہوں (کیونکہ) وہ موت کو (بوجہ تکلیف جسمانی) ناپسند کرتا ہے اور میں بھی اسے تکلیف دینا ناپسند کرتا ہوں اور اس کے سوا اس کے لیے کوئی چارہ بھی نہیں ہوتا۔“

حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1456
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الأولياء لابن أبى الدنيا ل : ١ ، حلية الأولياء :61/7 ، تاريخ دمشق : 96/7»
ہشام کنانی اور صدقہ مجہول ہیں ۔ صدقہ سے مرادا اگر صدقہ بن عبداللہ ہے تو وہ سخت ضعیف ہے ۔ «السلسلة الضعيفة : 1775»