حدیث نمبر: 1445
1445 - أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَتْحِ مَنْصُورُ بْنُ عَلِيٍّ الطَّرَسُوسِيُّ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى بْنِ هَارُونَ قِرَاءَةً عَلَيْهِ، ثنا أَبُو الْقَاسِمِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ خَلَفِ بْنِ قُدَيْدٍ الْأَزْدِيُّ، ثنا أَبُو الطَّاهِرِ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ لَهِيعَةَ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو، عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيَّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «لَوْ أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللَّهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ» وَذَكَرَ الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد ارشد کمال

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: ”اگر واقعی تم اللہ پر اس طرح بھروسا کرو جیسے اس پر بھروسا کرنے کا حق ہے ۔ ۔ . . . اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔

وضاحت:
تشریح: -
① پرندوں کا تو کل یہ ہے کہ وہ رزق جمع کر کے نہیں رکھتے بلکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ جس طرح اللہ نے ہمیں آج رزق دیا ہے اسی طرح کل بھی دے گا۔
② انسان عام طور پر اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے اس لیے گھبراتا ہے کہ وہ مستقبل کے بارے میں فقر و فاقہ سے ڈرتا ہے اسے یقین رکھنا چاہیے کہ جس طرح اللہ نے اسے اب رزق دیا ہے مستقبل میں بھی دے گا۔
③ توکل کا مطلب یہ نہیں کہ جائز اسباب اختیار نہ کیے جائیں۔ پرندے بھی گھونسلے چھوڑ کر نکلتے ہیں اور تلاش کر کے رزق کھاتے ہیں اسی طرح انسانوں کو حرص سے بچتے ہوئے جائز ذرائع سے رزق حاصل کرنا چاہیے۔ [سنن ابن ماجه: 5 /438]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1445
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه ترمذي : 2344 ، ابن ماجه : 4164 ، أحمد :31/1»