حدیث نمبر: 1443
1443 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، أنا أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ بُهْزَادَ نا أَبُو عَوَانَةَ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْبَاهِلِيُّ، نا عَارِمٌ، مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ، نا أَبُو عَوَانَةَ وَاسْمُهُ الْوَضَّاحُ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَوْ أَنَّ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَيْنِ، يَعْنِي مِنْ مَالِهِ لَبَغَى إِلَيْهِمَا الثَّالِثَ.» وَبَقِيَّةُ الْمَتْنِ عَلَى مَا هُوَ بِهِ، رَوَاهُ مُسْلِمٌ، نَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى وَسَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَقُتَيْبَةُ، قَالَ يَحْيَى: أَنَا، وَقَالَ الْآخَرَانِ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ يَرْفَعُهُ: «لَوْ كَانَ لِابْنِ آدَمَ وَادِيَانِ مِنْ مَالٍ لَابْتَغَى وَادِيًا ثَالِثًا» الْحَدِيثَ
ترجمہ:محمد ارشد کمال

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک ابن آدم کے پاس اگر دو وادیاں ہوں۔ یعنی اس کے مال کی۔ تو وہ ان کے ساتھ ضرور تیسری بھی تلاش کرے گا۔“ باقی متن وہی ہے جو دوسری حدیث کا ہے۔ اور اسے مسلم نے بھی اپنی سند کے ساتھ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مرفوعاً روایت کیا ہے کہ اگر ابن آدم کے پاس مال کی دو وادیاں ہوں تو وہ ضرور تیسری بھی تلاش کرے گا۔

وضاحت:
تشریح: -
① مال کی محبت انسان میں فطری طور پر موجود ہے جس میں دنیا اور آخرت کی کئی مصلحتیں پوشید ہ ہیں، تاہم اس میں حد سے بڑھ جانا گمراہی کا باعث ہے۔
② مال کی حرص جائز حد سے آگے بڑھ جائے تو حق تلفی، بخل، فرائض میں کوتاہی اور اس قسم کی دوسری خرابیوں کا باعث بن جاتی ہے، اس لیے ان بداعمالیوں سے بچنے کے لیے مال کی محبت کو جائز حد سے آگے نہیں بڑھنے دنیا چاہیے۔
③ مال کی محبت کا علاج یہ ہے کہ فرض زکاۃ اور واجب اخراجات کے علاوہ بھی نیکی کی راہ میں زیادہ سے زیادہ مال خرچ کرنے کی کوشش کی جائے۔
④ مال کی ناجائز محبت سے تو بہ کرنا ضروری ہے۔
⑤ دل مٹی سے بھرنے کا مطلب یہ ہے کہ انسان کا دل زندگی بھر سیر نہیں ہوتا جب مٹی میں جائے گا اور قبر میں دفن ہوگا، تب اس کی حرص ختم ہوگی اور دل سیر ہوگا کیونکہ وہاں ثواب و عذاب کا سلسلہ شروع ہو جائے گا جس کے بعد دنیا کی طرف توجہ ممکن نہیں۔ [سنن ابن ماجه: 4895]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1443
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مسلم : 1048 والترمذي : 2337 ، وأحمد : 3/ 22»