حدیث نمبر: 1390
1390 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ النَّيْسَابُورِيُّ، أنا الْقَاضِي أَبُو طَاهِرٍ، نا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ حَفْصٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ طَهْمَانٍ، عَنِ الْحَجَّاجِ بْنِ الْحَجَّاجِ الْبَاهِلِيِّ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَمِقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا اسْتَعْمَلَهُ» قِيلَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ يَسْتَعْمِلُهُ؟ قَالَ: «يَهْدِيهِ لِعَمَلٍ صَالِحٍ قَبْلَ مَوْتِهِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال

سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب اللہ کسی بندے کے ساتھ بھلائی کا ارادہ فرماتا ہے تو اس سے کام کراتا ہے۔“ عرض کیا گیا: اللہ کے رسول! وہ اس سے کس طرح کام کراتا ہے؟ فرمایا: ”اس کی موت سے پہلے نیک عمل کی طرف اسے ہدایت فرماتا ہے۔“

وضاحت:
تشریح: -
مطلب یہ ہے کہ جس بندے پر اللہ تعالیٰ ٰ کا فضل و کرم ہو جاتا ہے اسے موت سے پہلے تو بہ دانابت اور طاعت و عبادت کی توفیق مل جاتی ہے وہ اپنی صالحیت کی وجہ سے لوگوں میں شہد کی طرح میٹھا بن جاتا ہے۔ لوگ اس کو چاہتے ہیں اس سے محبت کرتے ہیں اور پھر اسی حال میں وہ دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے کہ دنیا والے اور آسمان والے دونوں اس سے خوش ہوتے ہیں۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1390
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه أحمد 135/4»