حدیث نمبر: 1382
1382 - أنا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، بْنِ أَحْمَدَ الْفَارِسِيُّ الْمِصْرِيُّ، أنا عَلِيُّ الْحَسَنُ بْنُ شِهَابٍ الْعُكْبُرِيُّ، بِهَا، قَالَ: نا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَنْبَارِيُّ، نا ابْنُ أَبِي الْعَوَّامِ، نا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ، نا شُبَيْلُ بْنُ عَزْرَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ مَثَلُ الدَّارِيِّ، إِنْ لَمْ يُصِبْكَ مِنْ عِطْرِهِ يَلْحَقْكَ مِنْ رِيحِهِ، وَمَثَلُ جَلِيسِ السُّوءِ مَثَلُ الْقَيْنِ إِنْ لَمْ يُحْرِقْكَ شَرَرُهُ يُؤْذِكَ بِدُخَانِهِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھے ساتھی کی مثال عطرفروش کی مانند ہے اگر تمہیں اس کے عطر میں سے کچھ نہ بھی ملے تو اس کی خوشبو (ضرور) پہنچے گی اور برے دوست کی مثال لوہار کی مانند ہے اگر اس کی چنگاریوں نے تمہیں نہ جلایا تو اس کا دھواں تمہیں (ضرور) ستائے گا۔“

وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث میں بڑی خوبصورت مثالوں کے ذریعے نیکوں کی صحبت اختیار کرنے اور بروں کی صحبت سے بچنے کی تلقین فرمائی گئی ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیں حدیث نمبر 187۔
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1382
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه أبو داود : 4829 ، المؤتلف والمختلف : 2/ 88 ، ابويعلي : 4292»