مسند الشهاب
— احادیث1201 سے 1400
مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ مَثَلُ الدَّارِيِّ باب: اچھے ساتھی کی مثال عطر فروش کی مانند ہے
1377 - أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْقُوبَ يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ النَّجِيرَمِيُّ، ثنا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ، أبنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُتَيْبَةَ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي قَالَ: يَرْوِيهِ سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ أَبِي مُوسَى، يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ مَثَلُ الدَّارِيِّ إِنْ لَمْ يُحْذِكَ مِنْ عِطْرِهِ عَلَقَكَ مِنْ رِيحِهِ، وَمَثَلُ الْجَلِيسِ السُّوءِ مَثَلُ الْكِيرِ إِنْ لَمْ يُحْرِقْكَ مِنْ شِرَارِ نَارِهِ عَلَقَكَ مِنْ نَتَنِهِ» وَرَوَى هَذَا الْحَدِيثَ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ الْبَزَّارُ فِي مُسْنَدِ أَبِي مُوسَى، عَنْ خَلَّادِ بْنِ أَسْلَمَ الْمَرْوَزِيِّ، عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلِ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ قَسَامَةَ بْنِ زُهَيْرٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَثَلُ الْجَلِيسِ الصَّالِحِ مَثَلُ الْعَطَّارِ إِمَّا أَنْ يُحْذِيَكَ مِنْ عِطْرِهِ أَوْ يُصِيبَكَ مِنْ ثَوْبِهِ، وَمَثَلُ الْجَلِيسِ السُّوءِ مَثَلُ الْقَيْنِ إِنْ لَمْ يُحْرِقْ ثَوْبَكَ إِمَّا أَنْ يُنْتِنَكَ أَوْ يُؤْذِيَكَ رِيحُهُ» ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو: وَهَذَا الْحَدِيثُ قَدْ رُوِيَ عَنْ أَبِي مُوسَى مَوْقُوفًا، وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ إِلَّا النَّضْرَ بْنَ شُمَيْلٍ، وَهَذَا وَهْمٌ مِنَ الْبَزَّارِ لِأَنَّ يَحْيَى بْنَ مَعِينٍ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ عَنْ سُفْيَانَ بْنِ عُيَيْنَةَ، عَنْ بُرَيْدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي مُوسَى مَرْفُوعًا، وَيَحْيَى بْنُ مَعِينٍ أَعْلَمُ مِنَ الْبَزَّارِ، وَسُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ إِمَامٌ فِي الْحَدِيثِسیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوعاً بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھے ساتھی کی مثال عطر فروش کی مانند ہے اگر وہ تجھے اپنے عطر میں سے عطیہ نہیں بھی دے گا تو اس کی خوشبو تجھے (ضرور) پہنچے گی اور برے ساتھی کی مثال بھٹی دھونکنے والے کی مانند ہے اگر وہ اپنی آگ کی چنگاریوں کے ذریعے تمہیں نہیں جلائے گا تو اس کی بدبودار ہوا تجھے (ضرور) پہنچے گی۔“ اس حدیث کو أحمد بن عمرو بن عبدالخالق البزار نے بھی ”مسند ابی موسیٰ“ میں خلاد بن اسلم مروزی از نضر بن شمیل از عوف از قسامہ بن زہیر از ابی موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی سند سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھے ساتھی کی مثال عطر فروش کی مانند ہے وہ یا تو تجھے اپنے عطر میں سے عطیہ دے دے گا یا پھر اس کے کپڑے سے تجھے خوشبو پہنچے گی اور برے ساتھی کی مثال لوہار کی مانند ہے اگر وہ تیرے کپڑے نہ بھی جلائے تو تجھے بدبودار بو (ضرور) پہنچائے گا یا اس کا دھواں تجھے ستاتا رہے گا۔“ ابوبکر أحمد بن عمرو نے کہا: اور یہ حدیث تو سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کی گئی ہے اور ہمیں علم نہیں کہ نضر بن شمیل کے علاوہ بھی کسی نے اسے مرفوع بیان کیا ہو۔ یہ (ابوبکر أحمد بن عمرو) بزار کا وہم ہے کیونکہ یحییٰ بن معین نے اسے سفیان بن عیینہ از برید بن ابی بردہ از ابی بردہ از ابی موسیٰ رضی اللہ عنہ سند سے مرفوع روایت کیا ہے۔ اور یحییٰ بن معین بزار سے بڑے عالم ہیں جبکہ سفیان بن عیینہ حدیث میں امام ہیں۔