حدیث کتب › مسند الشهاب ›
مسند الشهاب
— احادیث1201 سے 1400
مَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ بَيْنَ الْغَنَمَيْنِ باب: منافق کی مثال دوریوڑوں کے درمیان سرگرداں پھرنے والی بکری کی مانند ہے
حدیث نمبر: 1374
1374 - نا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْفَارِسِيُّ، لَفْظًا مِنْ كِتَابِهِ، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ، نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نا مُوسَى بْنُ خَاقَانَ، نا إِسْحَاقُ يَعْنِي الْأَزْرَقَ، نا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الشَّاةِ الْعَائِرَةِ تَعِيرُ إِلَى هَذِهِ مَرَّةً وَإِلَى هَذِهِ مَرَّةً، لَا تَدْرِي أَيُّهَمَا تَتْبَعُ»ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”منافق کی مثال (دو ریوڑوں کے درمیان) سرگرداں پھرنے والی بکری کی مانند ہے جو کبھی ایک ریوڑ کی طرف (جفتی کے لیے بکرے کی تلاش میں) بھاگتی ہے اور کبھی دوسرے ریوڑ کی طرف (بھاگتی ہے) وہ نہیں جانتی کہ ان دونوں میں سے کس کے پیچھے جائے۔“
وضاحت:
تشریح: -
منافقین کے لیے اس سے زیادہ مناسب مثال ممکن نہیں اور اس میں ان کی انتہائی تو ہین ہے کہ ان کو مؤنث سے مشابہت دی گئی ہے، گویا وہ مردانہ صفات سے عاری ہیں اور کمینوں کی طرح مال کی طلب میں کبھی مسلمانوں کی خوشامد کرتے ہیں کبھی کافروں کی لیکن تسلی پھر بھی نہیں ہوتی حیران و پریشان ہی رہتے ہیں۔ [سنن نسائي: 1317]
منافقین کے لیے اس سے زیادہ مناسب مثال ممکن نہیں اور اس میں ان کی انتہائی تو ہین ہے کہ ان کو مؤنث سے مشابہت دی گئی ہے، گویا وہ مردانہ صفات سے عاری ہیں اور کمینوں کی طرح مال کی طلب میں کبھی مسلمانوں کی خوشامد کرتے ہیں کبھی کافروں کی لیکن تسلی پھر بھی نہیں ہوتی حیران و پریشان ہی رہتے ہیں۔ [سنن نسائي: 1317]