مسند الشهاب
— احادیث1201 سے 1400
مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ السُّنْبُلَةِ باب: مومن کی مثال بالی کی مانند ہے
1364 - وأنا أَبُو مُحَمَّدٍ التُّجِيبِيُّ، نا ابْنُ الْأَعْرَابِيِّ، أنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، أنا أَبُو عُبَيْدٍ، نا ابْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «مَثَلُ الْمُؤْمِنِ مَثَلُ الْخَامَةِ مِنَ الزَّرْعِ يُمِيلُهَا الرِّيحُ مَرَّةً هَكَذَا وَمَرَّةً هَكَذَا، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ الْمُجْذِيَةِ عَلَى الْأَرْضِ حَتَّى يَكُونَ انْجِعَافُهَا مَرَّةً» قَالَ أَبُو عَمْرٍو: الْأَرَزَةُ بِفَتْحِ الرَّاءِ مِنْ شَجَرِ الْأَرْزَنِ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْأَرَزَةُ مِثْلُ فَاعِلَةِ الثَّابِتَةِ، قَالَ أَبُو عُبَيْدٍ: الْأَرْزَةَ بِسُكُونِ الرَّاءِ مِنْ شَجَرِ الْأَرْزِ وَهُوَ الصُّنُوبَرُ، وَالْمَجْذِيَةُ الثَّابِتَةُ، وَالْإِنْجِعَافُ الْإِنْقِلَاعُ، وَيُقَالُ بِالْخَاءِسیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال کھیتی کے ننھے پودے کی مانند ہے جسے ہوائیں ادھر ادھر جھکاتی رہتی ہیں اور منافق کی مثال صنوبر کی ہے جو زمین پر سیدھا کھڑا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک ہی بار جڑ سے اکھڑ جاتا ہے۔“ ابوعمرو نے کہا: «ارزہ» را کی زبر کے ساتھ ہے اور یہ «ارزن» میں سے ہے۔ ابوعبید نے کہا: «ارزہ» کا تلفظ «فاعلہ» کی مثل ہے۔ ابوعبید نے یہ بھی کہا کہ «ارزہ» را کی جزم کے ساتھ ہے اور یہ صنوبر کا درخت ہے۔ «المجدیہ» کا معنی ہے: سیدھا۔ «انجعاف» کا معنی ہے: جڑ سے اکھڑ جانا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ لفظ «انجعاف» (جیم کی بجائے) خ کے ساتھ «انخعاف» ہے۔