حدیث کتب › مسند الشهاب ›
مسند الشهاب
— احادیث1201 سے 1400
مَا مَلَأَ ابْنُ آدَمَ وِعَاءً شَرًّا مِنْ بَطْنٍ باب: ابن آدم نے (اپنے ) پیٹ سے زیادہ برا کوئی برتن نہیں بھرا ۔
حدیث نمبر: 1341
1341 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ، أنا زَاهِرُ بْنُ أَحْمَدَ السَّرَخْسِيُّ، أنا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذٍ، أنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ، أنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمَةَ الْحِمْصِيُّ، وَحَبِيبُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَابِرٍ الطَّائِيِّ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " وَذَكَرَهُترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ۔ ۔ ۔ ۔ اور انہوں نے یہ حدیث بیان کی۔
وضاحت:
تشریح: -
اس حدیث میں زیادہ کھانے کی عادت کو بدترین خصلت قرار دیا گیا ہے۔ زیادہ کھانا بہت سی دینی اور دنیاوی خرابیوں کا باعث ہے، ایسا شخص صرف کھانے پینے کی فکر میں رہتا ہے اور بسا اوقات وہ یہ بھی تمیز نہیں کرتا کہ جس کھانے سے وہ پیٹ بھر رہا ہے وہ حلال ہے یا حرام، زیادہ کھانا امراض معدہ کا باعث بھی ہے اور دل و د ماغ پر بھی اس کے برے اثرات پڑتے ہیں۔ بہر حال کم خوری ہر لحاظ سے مفید اور بسیار خوری ہر لحاظ سے مصفر ہے۔ تمام حکماء، بھی اس بات پر متفق ہیں۔
اس حدیث میں زیادہ کھانے کی عادت کو بدترین خصلت قرار دیا گیا ہے۔ زیادہ کھانا بہت سی دینی اور دنیاوی خرابیوں کا باعث ہے، ایسا شخص صرف کھانے پینے کی فکر میں رہتا ہے اور بسا اوقات وہ یہ بھی تمیز نہیں کرتا کہ جس کھانے سے وہ پیٹ بھر رہا ہے وہ حلال ہے یا حرام، زیادہ کھانا امراض معدہ کا باعث بھی ہے اور دل و د ماغ پر بھی اس کے برے اثرات پڑتے ہیں۔ بہر حال کم خوری ہر لحاظ سے مفید اور بسیار خوری ہر لحاظ سے مصفر ہے۔ تمام حکماء، بھی اس بات پر متفق ہیں۔