حدیث کتب › مسند الشهاب ›
حدیث نمبر: 1321
1321 - نا نَصْرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ الْفَارِسِيُّ، لَفْظًا، أنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصُّوفِيُّ، نا يُوسُفُ بْنُ يَعْقُوبَ الْأَنْبَارِيُّ، نا جَدِّي، نا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي طَالِبٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «نِعْمَ الْإِدَامُ الْخَلُّ، وَكَفَى بِالْمَرْءِ شَرًّا أَنْ يَتَسَخَّطَ مَا قُرِّبَ إِلَيْهِ»ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرکہ کیا ہی اچھا سالن ہے اور آدمی کے لیے یہی برائی کافی ہے کہ جو چیز اس کے قریب کی جائے وہ اسے ناپسند کرے۔“
وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث میں سرکے کی تعریف اور اس کا سالن کی جگہ استعمال ہونا بتایا گیا ہے۔ سرکہ طبعی طور پر بھی بڑی مفید چیز ہے لہٰذا اسے بطور سالن اور سالن کے علاوہ بھی استعمال کرتے رہنا چاہیے۔ اس حدیث مبارک سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ سادہ زندگی بسر کرنا اور کھانے پینے میں تکلفات سے گریز کرنا جسم و جان اور روح و بدن کے لیے مفید ہے۔
ان احادیث میں سرکے کی تعریف اور اس کا سالن کی جگہ استعمال ہونا بتایا گیا ہے۔ سرکہ طبعی طور پر بھی بڑی مفید چیز ہے لہٰذا اسے بطور سالن اور سالن کے علاوہ بھی استعمال کرتے رہنا چاہیے۔ اس حدیث مبارک سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ سادہ زندگی بسر کرنا اور کھانے پینے میں تکلفات سے گریز کرنا جسم و جان اور روح و بدن کے لیے مفید ہے۔