حدیث نمبر: 1310
1310 - أنا أَبُو الْقَاسِمِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْأُدْفُوِيُّ، نا أَبُو الطَّيِّبِ، أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْجُرَيْرِيُّ، نا أَبُو جَعْفَرٍ، مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ الطَّبَرِيُّ، نا أَبُو كُرَيْبٍ، نا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَّامٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «اقْرَؤُوا الْقُرْآنَ، فَإِنَّهُ نِعْمَ الشَّفِيعُ لِصَاحِبِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے ساتھی کے لیے کیا ہی اچھا سفارش کرنے والا ہوگا۔“

وضاحت:
فائدہ: -
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: "قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اپنے ساتھیوں کے لیے سفارش کرنے والا بن کر آئے گا۔ دو چمکتی ہوئی روشن سورتیں یعنی سورہ البقر ہ اور آل عمران پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اس حال میں آئیں گی گویا کہ وہ دو بادل ہیں یا دوسائیان ہیں یا پرندوں کے غول ہیں جو صفیں باندھے اپنے پڑھنے والوں کے حق میں بحث و مباحثہ کریں گے۔ سورۃ البقرہ پڑھا کرو کیونکہ اسے حاصل کر لینا باعث برکت اور اسے ترک کر دینا باعث حسرت ہے اور جادو گر اسے حاصل نہیں کر سکتے۔ " [مسلم: 804]
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1310
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث إسناده ضعیف ، ابوخالد احمر مدلس کا عنعنہ ہے ۔