حدیث نمبر: 1298
1298 - أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عُمَرَ التُّجِيبِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ جَامِعٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا أَبُو عُبَيْدٍ، ثنا شَاذُ بْنُ فَيَّاضٍ، ثنا أَبُو قَحْذَمٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: مَرَّ عُمَرُ بِمُعَاذٍ وَهُوَ يَبْكِي فَقَالَ مَا يُبْكِيكَ يَا مُعَاذُ؟ قَالَ: حَدِيثٌ سَمِعْتُهُ مِنْ صَاحِبِ هَذَا الْقَبْرِ يَعْنِي النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ أَدْنَى الرِّيَاءِ شِرْكٌ وَأَحَبُّ الْعِبَادِ إِلَى اللَّهِ الْأَتْقِيَاءُ الْأَخْفِيَاءُ، الَّذِينَ إِذَا غَابُوا لَمْ يُفْتَقَدُوا وَإِذَا شَهِدُوا لَمْ يُعْرَفُوا، أُولَئِكَ أَئِمَّةُ الْهُدَى وَمَصَابِيحُ الْعِلْمِ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ، معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس سے گزرے جبکہ وہ رو رہے تھے تو انہوں نے فرمایا: معاذ! کیوں رو رہے ہو؟ انہوں نے کہا: اس حدیث (کی وجہ) سے (رو رہا ہوں) جو میں نے اس قبر والے یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی کہ ”بے شک معمولی سی ریاکاری بھی شرک ہے اور گم نام متقی لوگ اللہ کے پسندیدہ بندے ہیں جو (محفل سے) جب غائب ہوں تو انہیں تلاش نہ کیا جائے اور جب موجود ہوں تو انہیں پہچانا نہ جائے۔ یہ لوگ ہدایت کے امام اور علم کے چراغ ہیں۔“

حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1298
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه المعجم الاوسط : 4950 ، حاكم : 270/4 ، الزهد و الكبير : 195»
ابوقحذم اور شاذ بن فیاض ضعیف ہیں ۔ اس میں ایک اور علت بھی ہے ۔ «السلسلة الضعيفة : 1850»