حدیث کتب › مسند الشهاب ›
مسند الشهاب
— احادیث1201 سے 1400
خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا باب: مردوں کی صفوں میں سے بہترین صف ان کی پہلی صف ہے اور بدتر صف ان کی آخری صف ہے
حدیث نمبر: 1259
1259 - وأنا أَبُو الْحَسَنِ، عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْجُدِّيُّ، نا أَبُو الْحَسَنِ، مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَكَرِيَّا النَّيْسَابُورِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ شُعَيْبٍ النَّسَائِيُّ، أنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أنا جَرِيرٌ، عَنْ سُهَيْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ صُفُوفِ الرِّجَالِ أَوَّلُهَا، وَشَرُّهَا آخِرُهَا، وَخَيْرُ صُفُوفِ النِّسَاءِ آخِرُهَا وَشَرُّهَا أَوَّلُهَا»ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مردوں کی صفوں میں سے بہترین صف ان کی پہلی صف ہے اور بدتر صف ان کی آخری صف ہے اور عورتوں کی صفوں میں سے بہترین صف ان کی آخری صف ہے اور بدتر صف ان کی پہلی صف ہے۔“
وضاحت:
تشریح: -
اسلام نے مرد و زن کے باہمی اختلاط کو سخت ناپسند کیا ہے اور دونوں کو ایک دوسرے سے دور رہنے اور پردہ کرنے کی تاکید کی ہے۔ صفوں کی تقدیم و تاخیر کی فضیلت اور عدم فضیلت کا جو مسئلہ اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے، وہ بھی اسی پس منظر کی رو سے ہے، کیونکہ عہد نبوی میں خواتین مسجد نبوی میں ہی آکر نماز با جماعت پڑھتی تھیں، اور ان کی صفیں مردوں کے آخر میں ہوتی تھیں۔ گیلری یا الگ گوشے کا انتظام نہیں تھا۔ اس لیے مردوں کی پہلی صف کو سب سے بہتر قرار دیا گیا، کیونکہ وہ عورتوں سے سب سے دور ہوتی ہیں اور عورتوں کی آخری صف کو سب سے بہتر فرمایا۔ کیونکہ یہ بھی مردوں سے سب سے دور ہوتی ہیں۔
اس کے برعکس مردوں کی آخری صف، عورتوں کی پہلی صف کے قریب اور عورتوں کی پہلی صف، مردوں کی آخری صف سے متصل ہوتی تھی، اس لیے انہیں بدتر قرار دیا۔ اس میں خیر (بہتر) اور شر (بدتر) سے مراد ثواب کی کثرت وقلت ہے۔ ورنہ نمازیوں کی کسی صف میں بھی شر (نقصان) کا پہلو نہیں ہے، ہر صف میں خیر ہی خیر ہے لیکن مذکورہ پہلو کی وجہ سے مردوں کی پہلی صف اور عورتوں کی آخری صف زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے۔ اور مردوں کی آخری صف اور عورتوں کی پہلی صف میں ثواب کم ہے۔ (ریاض الصالحین: 242)
اسلام نے مرد و زن کے باہمی اختلاط کو سخت ناپسند کیا ہے اور دونوں کو ایک دوسرے سے دور رہنے اور پردہ کرنے کی تاکید کی ہے۔ صفوں کی تقدیم و تاخیر کی فضیلت اور عدم فضیلت کا جو مسئلہ اس حدیث میں بیان کیا گیا ہے، وہ بھی اسی پس منظر کی رو سے ہے، کیونکہ عہد نبوی میں خواتین مسجد نبوی میں ہی آکر نماز با جماعت پڑھتی تھیں، اور ان کی صفیں مردوں کے آخر میں ہوتی تھیں۔ گیلری یا الگ گوشے کا انتظام نہیں تھا۔ اس لیے مردوں کی پہلی صف کو سب سے بہتر قرار دیا گیا، کیونکہ وہ عورتوں سے سب سے دور ہوتی ہیں اور عورتوں کی آخری صف کو سب سے بہتر فرمایا۔ کیونکہ یہ بھی مردوں سے سب سے دور ہوتی ہیں۔
اس کے برعکس مردوں کی آخری صف، عورتوں کی پہلی صف کے قریب اور عورتوں کی پہلی صف، مردوں کی آخری صف سے متصل ہوتی تھی، اس لیے انہیں بدتر قرار دیا۔ اس میں خیر (بہتر) اور شر (بدتر) سے مراد ثواب کی کثرت وقلت ہے۔ ورنہ نمازیوں کی کسی صف میں بھی شر (نقصان) کا پہلو نہیں ہے، ہر صف میں خیر ہی خیر ہے لیکن مذکورہ پہلو کی وجہ سے مردوں کی پہلی صف اور عورتوں کی آخری صف زیادہ اجر و ثواب کا باعث ہے۔ اور مردوں کی آخری صف اور عورتوں کی پہلی صف میں ثواب کم ہے۔ (ریاض الصالحین: 242)