حدیث نمبر: 1242
1242 - أنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْأَصْبَهَانِيُّ، نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَهْرَيَارَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رِيذَةَ، قَالَا: نا الطَّبَرَانِيُّ، نا الْحَسَنُ بْنُ سَهْلٍ الْعَسْكَرِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، نا مُعَاذُ بْنُ عَوْذِ اللَّهِ الْقُرَشِيُّ، نا سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خِيَارُكُمْ مَنْ تَعَلَّمَ الْقُرْآنَ وَعَلَّمَهُ»
ترجمہ:محمد ارشد کمال

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے بہتر وہ ہے جس نے قرآن سیکھا اور اسے (دوسروں کو) سکھایا۔“

وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث میں قرآن مجید سیکھنے اور سیکھانے والے لوگوں کی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے لوگوں کو بہترین قرار دیا ہے جو خود بھی قرآن مجید سیکھتے ہیں اور دوسروں کو بھی سکھاتے ہیں کیونکہ جس طرح قرآن مجید اور اس کے علوم دنیا کی تمام کتابوں اور علوم سے افضل اور ارفع ہیں اسی طرح قرآنی علوم کو سیکھنے اور سکھانے والے بھی سب سے ممتاز اور افضل ہیں۔
علامہ داود راز رحمہ اللہ نے لکھا ہے: قرآن سیکھنے سے صرف یہ مراد نہیں ہے کہ اس کے الفاظ پڑھنا سیکھنا، بلکہ الفاظ کو صحت کے ساتھ سیکھے پھر ان کے معنی پھر مطلب اور شان نزول وغیرہ غرض حدیث اور قرآن یہی دو علم دین کے ہیں جو شخص ان کی تعلیم اور تعلیم میں مصروف ہے اس کا درجہ سارے مسلمانوں سے بڑھ کر ہے۔ " (بخاری مترجم: 550/6)
حوالہ حدیث مسند الشهاب / حدیث: 1242
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث إسناده ضعيف ، وأخرجه المعجم الصغير : 379 ، محمد بن سنان قزاز ضعیف ہے ، اس میں ایک اور علت بھی ہے