حدیث کتب › مسند الشهاب ›
مسند الشهاب
— احادیث1201 سے 1400
لَيْسَ بِكَذَّابٍ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ اثْنَيْنِ باب: وہ شخص جھوٹا نہیں جو دو افراد کے درمیان صلح کرائے
حدیث نمبر: 1206
1206 - أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْمَوْصِلِيُّ، نا أَبُو الْحَسَنِ الدَّارَقُطْنِيُّ، نا الْبَغَوِيُّ، وَأَبُو الْعَبَّاسِ الْفَضْلُ بْنُ أَحْمَدَ الزُّبَيْدِيُّ، قَالَا: نا عَبْدُ الْأَعْلَى بْنُ حَمَّادٍ، نا وَهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ، نا أَيُّوبُ، وَمَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أُمِّهِ أُمِّ كُلْثُومٍ بِنْتِ عُقْبَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَيْسَ بِالْكَاذِبِ مَنْ أَصْلَحَ بَيْنَ النَّاسِ فَقَالَ خَيْرًا أَوْ نَمَى خَيْرًا»ترجمہ:محمد ارشد کمال
سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ شخص جھوٹا نہیں جو لوگوں کے درمیان صلح کرائے تو (اسی غرض سے) اچھی بات کہے یا اچھی بات پہنچائے۔“
وضاحت:
تشریح: -
ان احادیث میں لوگوں کے درمیان صلح کروانے کی اہمیت بیان فرمائی گئی ہے کہ اس کے لیے اگر کوئی خلاف واقعہ بات کہنی پڑے تو اس کی اجازت ہے مثلاً: یہ کہنا کہ فلاں شخص آپ کے بارے میں اچھی رائے رکھتا ہے، یا آپ کو سلام کہہ رہا تھا حالانکہ اس نے سلام نہیں کہا، بس صلح کروانے والے نے اپنے پاس سے اس طرح کے الفاظ کہہ دیئے تا کہ صلح ہو جائے تو ایسے شخص کو جھوٹا نہیں کہا: جائے گا۔ اسی طرح اگر کسی موقع پر گھریلو زندگی کی خوش گواری کے لیے خاوند کو بیوی یا بیوی کو خاوند سے کوئی خلاف واقعہ بات کہنے کی اشد ضرورت پڑ جائے تو اس صورت میں بھی شریعت نے اجازت دی ہے۔
ان احادیث میں لوگوں کے درمیان صلح کروانے کی اہمیت بیان فرمائی گئی ہے کہ اس کے لیے اگر کوئی خلاف واقعہ بات کہنی پڑے تو اس کی اجازت ہے مثلاً: یہ کہنا کہ فلاں شخص آپ کے بارے میں اچھی رائے رکھتا ہے، یا آپ کو سلام کہہ رہا تھا حالانکہ اس نے سلام نہیں کہا، بس صلح کروانے والے نے اپنے پاس سے اس طرح کے الفاظ کہہ دیئے تا کہ صلح ہو جائے تو ایسے شخص کو جھوٹا نہیں کہا: جائے گا۔ اسی طرح اگر کسی موقع پر گھریلو زندگی کی خوش گواری کے لیے خاوند کو بیوی یا بیوی کو خاوند سے کوئی خلاف واقعہ بات کہنے کی اشد ضرورت پڑ جائے تو اس صورت میں بھی شریعت نے اجازت دی ہے۔