حدیث نمبر: 1804
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، يَقُولُ: بَايَعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى النُّصْحِ لِكُلِّ مُسْلِمٍ.
حافظ محمد فہد
جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں نے نبی ﷺ کی ہر مسلمان کے ساتھ خیر خواہی کرنے پر بیعت کی۔“
حدیث نمبر: 1805
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ اللَّيْثِيِّ، عَنْ تَمِيمٍ الدَّارِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: الدِّينُ النَّصِيحَةُ الدِّينُ النَّصِيحَةُ: للَّهِ وَلِكِتَابِهِ وَلِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِأَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ وَعَامَّتِهِمْ .
حافظ محمد فہد
تمیم داری رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”دین خیر خواہی کا نام ہے۔“ دین خیر خواہی کرنے کا نام ہے: اللہ کی، اس کے نبی صلى الله عليه وسلم کی، مسلمانوں کے ائمہ کی ، اور عام مسلمانوں کی۔“
حدیث نمبر: 1806
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: نَضَّرَ اللَّهُ عَبْدًا سَمِعَ مَقَالَتِي فَحَفِظَهَا وَوَعَاهَا وَأَدَّاهَا، فَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى غَيْرِ فَقِيهٍ وَرُبَّ حَامِلِ فِقْهٍ إِلَى مَنْ هُوَ أَفْقَهُ مِنْهُ. ثَلَاثٌ لَا يُغِلُّ عَلَيْهِنَّ قَلْبُ مُسْلِمٍ: إِخْلَاصُ الْعَمَلِ للَّهِ تَعَالَى، وَالنَّصِيحَةُ لِلْمُسْلِمِينَ، وَلُزُومُ جَمَاعَاتِهِمْ، فَإِنَّ دَعْوَتَهُمْ تُحِيطُ مِنْ وَرَائِهِمْ . أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ.
حافظ محمد فہد
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اس بندے کے چہرے کو ترو تازہ رکھے جس نے میری بات سنی، اس کو محفوظ کیا، اس کو یاد رکھا، اور لوگوں تک پہنچا دیا، کیونکہ بعض دفعہ علم کے حامل خود فقیہ نہیں ہوتے (یعنی استنباط کا ملکہ نہیں رکھتے) اور بعض دفعہ علم کے حامل اس کی طرف بات پہنچا دیتے ہیں جو ان سے بھی زیادہ فقیہ ہوتا ہے۔ تین خصلتیں ایسی ہیں جن میں ایک مسلمان کا دل خیانت نہیں کرتا (یعنی مسلمان انہیں خوش دلی سے اپناتا ہے) اللہ تعالیٰ کے لیے اخلاص کے ساتھ عمل کرنا، مسلمانوں کی خیر خواہی کرنا، اور مسلمانوں کی جماعت سے وابستہ رہنا، کیونکہ ان کی دعا انہیں پیچھے سے گھیرے میں لیے ہوئے ہوتی ہے۔“