حدیث نمبر: 1799
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "أَعْظَمُ الْمُسْلِمِينَ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا مَنْ سَأَلَ عَنْ شَيْءٍ لَمْ يَكُنْ يَعْنِي مُحَرَّمًا فَحُرِّمَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ" .
حافظ محمد فہد
عامر بن سعد نے اپنے باپ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا: ”بے شک مسلمانوں میں سے سب سے بڑا مجرم وہ مسلمان ہے جس نے کسی ایسی چیز کے متعلق پوچھا جو حرام نہیں تھی اور اس کے سوال کی وجہ سے وہ حرام بنا دی گئی۔“
حدیث نمبر: 1800
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ.
حافظ محمد فہد
ایک اور سند سے بھی عامر بن سعد عن ابیہ کے واسطہ سے نبی ﷺ سے سابقہ حدیث کے ہم معنی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1801
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "ذَرُونِي مَا تَرَكْتُكُمْ، فَإِنَّهُ إِنَّمَا أَهْلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِكَثْرَةِ سُؤَالِهِمْ [ ص: 66 ] وَاخْتِلَافِهِمْ عَلَى أَنْبِيَائِهِمْ فَمَا أَمَرْتُكُمْ بِهِ مِنْ أَمْرٍ، فَائْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ، وَمَا نَهَيْتُكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا" .
حافظ محمد فہد
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس (چیز) کو میں نے تمہارے لیے چھوڑ دیا ہے تم مجھے بھی اس میں چھوڑ دو ، کیونکہ تم سے پہلے کی امتیں اپنے بہت زیادہ (غیر ضروری) سوالات اور انبیاء کے سامنے اپنے اختلافات کی وجہ سے تباہ ہوئیں اور میں جس کام کا تمہیں حکم دوں تم اسے جتنی طاقت رکھتے ہو بجا لاؤ اور جس کام سے میں تمہیں روکوں تم اس سے رک جاؤ۔“
حدیث نمبر: 1802
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِ مَعْنَاهُ.
حافظ محمد فہد
ایک اور سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی ﷺ سے سابقہ حدیث کے ہم معنی مروی ہے۔
حدیث نمبر: 1803
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: لَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ عَنِ السَّاعَةِ حَتَّى أَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فِيمَ أَنْتَ مِنْ ذِكْرَاهَا [النَّازِعَاتِ: 43] ، فَانْتَهَى. أَخْرَجَ الْأَرْبَعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَالْخَامِسَ مِنْ كِتَابِ الرِّسَالَةِ.
حافظ محمد فہد
عروہ رحمہ اللہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ سے ہمیشہ قیامت کے متعلق سوال کیا جاتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی: ”اس کے بیان کرنے سے آپ کا کیا تعلق ہے۔“ (سورۃ النازعات : 43)۔