کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: بدر والوں کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 1786
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَا وَالزُّبَيْرَ وَالْمِقْدَادَ، فَقَالَ: "انْطَلِقُوا حَتَّى تَأْتُوا رَوْضَةَ خَاخَ فَإِنَّ بِهَا ظَعِينَةً مَعَهَا كِتَابٌ" ، فَخَرَجْنَا تَعَادَى بِنَا خَيْلُنَا، فَإِذَا نَحْنُ بِظَعِينَةٍ، فَقُلْنَا: أَخْرِجِي الْكِتَابَ. فَقَالَتْ: مَا مَعِي كِتَابٌ، فَقُلْنَا لَهَا: لَتُخْرِجِنَّ الْكِتَابَ أَوْ لَنُلْقِيَنَّ الثِّيَابَ، فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ عِقَاصِهَا، فَأَتَيْنَا بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فِيهِ: مِنْ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ إِلَى أُنَاسٍ مِنَ الْمُشْرِكِينَ مِمَّنْ بِمَكَّةَ يُخْبِرُ بِبَعْضِ أَمْرِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: "مَا هَذَا يَا حَاطِبُ؟" قَالَ: لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ إِنِّي كُنْتُ امْرَأً مُلْصَقًا فِي قُرَيْشٍ، وَلَمْ أَكُنْ مِنْ أَنْفَسِهَا، وَكَانَ مِمَّنْ مَعَكَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَهُمْ قَرَابَاتٌ يَحْمُونَ بِهَا قَرَابَاتِهِمْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي بِمَكَّةَ قَرَابَةٌ فَأَحْبَبْتُ إِذْ فَاتَنِي ذَلِكَ أَنْ أَتَّخِذَ عِنْدَهُمْ يَدًا، وَاللَّهِ مَا فَعَلْتُهُ شَكًّا فِي دِينِي وَلَا رِضًا بِالْكُفْرِ بَعْدَ الْإِسْلَامِ. فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّهُ قَدْ صَدَقَ" . فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَعْنِي أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَ هَذَا الْمُنَافِقِ. فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: فَقَدْ شَهِدَ بَدْرًا، وَمَا يُدْرِيكَ لَعَلَّ اللَّهَ اطَّلَعَ عَلَى أَهْلِ بَدْرٍ، فَقَالَ: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ فَقَدْ غَفَرْتُ لَكُمْ ، وَنَزَلَتْ: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ [الْمُمْتَحَنَةِ: 1] . أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ الْأُسَارَى وَالْغُلُولِ.
حافظ محمد فہد
عبید الله بن أبي رافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے فرمایا میں نے علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اور زبیر اور مقداد رضی اللہ عنہما کو بھیجا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم روضہ خاخ (ایک جگہ کا نام ہے) پر پہنچو تو وہاں ایک بڑھیا (اونٹ پر سوار) تمہیں ملے گی، اس کے پاس ایک خط ہوگا۔ ہم روانہ ہوئے تو ہمارے گھوڑے ہمیں تیزی سے لے جا رہے تھے کہ ہم اس بوڑھی عورت کے پاس پہنچ گئے۔ تو ہم نے (اس سے) کہا، خط نکالو! اس نے کہا، میرے پاس تو کوئی خط نہیں۔ ہم نے پھر اس سے کہا تو خط نکال یا ہم تیرے کپڑے اتار دیں گے۔ تو اس نے وہ خط اپنی مینڈھی سے نکالا، ہم اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو اس کا مضمون یہ تھا، حاطب بن ابی بلتعہ کی طرف سے مشرکین مکہ کے چند آدمیوں کی طرف، وہ اس خط میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعض معاملات (رازوں) کی (انہیں) خبر دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: اے حاطب! یہ کیا ہے؟ انہوں نے کہا میرے بارے میں جلدی (فیصلہ) نہ کریں، میری حیثیت یہ تھی کہ میں نے قریش میں رہنا اختیار کر لیا، اور میرا ان سے کوئی رشتہ نہ تھا، اور آپ کے ساتھ دوسرے مہاجرین کی ان سے رشتہ داریاں ہیں، تو وہ (مکہ والے) ان کی رشتہ داریوں کی وجہ سے ان کے (رشتہ داروں اور مالوں کی) حفاظت و حمایت کریں گے، اور میری مکہ والوں سے کوئی رشتہ داری نہ تھی، لہذا میں نے چاہا جب میری ان سے رشتہ داری نہیں تو میں ان پر احسان کر دیتا ہوں (جس کے صلہ میں وہ میرے رشتہ داروں کی حفاظت کریں گے۔ اللہ کی قسم! نہ تو میں نے یہ کام اپنے دین میں شک کی بنیاد پر کیا اور نہ ہی اسلام کے بعد کفر پر رضا مند ہونے کی وجہ سے کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (ان کی بات سن کر) فرمایا: انہوں نے سچ کہا ہے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا، اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اجازت دیں میں اس منافق کا سر اڑا دوں، تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہ بدر کی لڑائی میں (مسلمانوں کے ساتھ) شریک ہوئے ہیں، اور تمہیں معلوم نہیں، اللہ تعالیٰ نے بدر والوں پر جھانکا ہے اور فرمایا ہے: تم جو چاہو کرو، میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے۔ اور پھر یہ آیت نازل ہوئی : ”اے ایمان والو! میرے اور (خود) اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ کہ تم ان کی طرف دوستی کے پیغام بھیجتے ہو۔“ (المتحہ: 1)
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب فضائل قريش وغيرهم وأبواب متفرقة / حدیث: 1786
تخریج حدیث اخرجه البخاري، الجهاد والسير باب الجاسوس والتجسس التبحث...... الخ (3007)، (4890) ومسلم، فضائل الصحابة، باب من فضائل حاطب بن ابی بلتعه واهل بدر (2494)۔