حدیث نمبر: 1776
حَدَّثَنِي الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ: أَنَّهُ بَلَغَهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: قَدِّمُوا قُرَيْشًا وَلَا تَقَدَّمُوهَا وَتَعَلَّمُوا مِنْهَا وَلَا تَعَالَمُوهَا أَوْ وَلَا تُعَلِّمُوهَا، يَشُكُّ ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ.
حافظ محمد فہد
ابن شہاب سے روایت ہے، انہیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قریش کو مقدم کرو اور تم ان سے مقدم نہ ہونا، تم ان سے سیکھو اور ان سے علم کا مقابلہ نہ کرو یا انہیں تم نہ سکھاؤ۔“ ابن ابی فدیک ان الفاظ میں شک کرتے ہیں۔
حدیث نمبر: 1777
أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ حَكِيمِ بْنِ أَبِي حَكِيمٍ: أَنَّهُ سَمِعَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَابْنَ شِهَابٍ، يَقُولَانِ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ أَهَانَ قُرَيْشًا أَهَانَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ" .
حافظ محمد فہد
حکیم بن ابی حکیم سے روایت ہے کہ اس نے عمر بن عبدالعزیز اور ابن شہاب سے سنا، وہ دونوں فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قریش کو رسوا کیا، اس کو اللہ تعالیٰ رسوا کریں گے۔“
حدیث نمبر: 1778
أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنَّهُ قَالَ: [ ص: 53 ] بَلَغَنَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: "لَوْلَا أَنْ تَبْطَرَ قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا بِالَّذِي لَهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حافظ محمد فہد
حارث بن عبد الرحمن سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اگر قریش والے ناشکری (اور غرور) نہ کرتے تو میں ان کو بتاتا کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں کیا (نعمتیں) ہیں۔“
حدیث نمبر: 1779
حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِقُرَيْشٍ: "أَنْتُمْ أَوْلَى النَّاسِ بِهَذَا الْأَمْرِ مَا كُنْتُمْ مَعَ الْحَقِّ إِلَّا أَنْ تَعْدِلُوا عَنْهُ فَتُلْحَوْنَ كَمَا تُلْحَى هَذِهِ الْجَرِيدَةُ" يُشِيرُ إِلَى جَرِيدَةٍ فِي يَدِهِ.
حافظ محمد فہد
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش کے لیے فرمایا: ”تم لوگوں میں سے سب سے زیادہ اس امر (خلافت) کے حقدار ہو جب تک تم حق کے ساتھ ہو، سوائے اس کے کہ تم اس سے اعراض کرو، تو تم اسی طرح (حکومت سے) علیحدہ کر دیے جاؤ گے جس طرح اس کھجور کی ٹہنی سے چھلکا۔“ آپ ﷺ اپنے ہاتھ میں موجود کھجور کی ٹہنی کی طرف اشارہ فرما رہے تھے۔
حدیث نمبر: 1780
أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُثْمَانَ بْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ رِفَاعَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ رِفَاعَةَ: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَادَى: "أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ قُرَيْشًا أَهْلُ أَمَانَةٍ مَنْ بَغَاهَا الْعَوَاثِرَ أَكَبَّهُ اللَّهُ تَعَالَى لِمَنْخِرَيْهِ" يَقُولُهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ.
حافظ محمد فہد
رفاعہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے آواز دی: ”اے لوگو! قریش امانت (سرداری، امامت، خلافت) والے ہیں، جس نے ان کی عیب جوئی یا ان سے بغاوت کی، اللہ تعالیٰ اسے ناک کے بل (جہنم میں) گرائیں گے۔“ آپ ﷺ یہ الفاظ تین مرتبہ فرما رہے تھے۔
حدیث نمبر: 1781
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ: أَنَّ قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانَ وَقَعَ بِقُرَيْشٍ، فَكَأَنَّهُ نَالَ مِنْهُمْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَهْلًا يَا قَتَادَةُ، لَا تَشْتُمْ قُرَيْشًا، فَإِنَّكَ لَعَلَّكَ تَرَى مِنْهُمْ رِجَالًا أَوْ يَأْتِي مِنْهُمْ رِجَالٌ تُحَقِّرُ عَمَلَكَ مَعَ أَعْمَالِهِمْ وَفِعْلَكَ مَعَ فِعَالِهِمْ وَتَغْبِطُهُمْ إِذَا رَأَيْتُهُمْ، لَوْلَا أَنْ تَطْغَى قُرَيْشٌ لَأَخْبَرْتُهَا بِالَّذِي لَهَا عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
حافظ محمد فہد
محمد بن ابراہیم بن حارث تیمی سے روایت ہے کہ قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ نے قریش کے بارے میں کچھ سخت کلمات کہے (ایسا لگتا تھا گویا انہیں ان سے کوئی تکلیف پہنچی ہے)۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے قتادہ! ٹھہر جاؤ، صبر کرو، قریش کو برا بھلا نہ کہو، پس بے شک شاید کہ تو ان میں ایسے لوگوں کو دیکھے جن کے اعمال کے سامنے تو اپنے اعمال کو حقیر اور ان کے کاموں کے سامنے اپنے کاموں کو کم سمجھے گا، اور جب تو انہیں دیکھے گا تو ان پر رشک کرے گا۔ اگر قریش سرکشی (ناشکری) نہ کرتے تو میں انہیں وہ بتاتا جو اللہ تعالیٰ کے ہاں ان کے لیے (جنت میں) ہے۔“
حدیث نمبر: 1782
أَخْبَرَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ بِإِسْنَادٍ لَا أَحْفَظُهُ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي قُرَيْشٍ شَيْئًا مِنَ الْخَيْرِ لَا أَحْفَظُهُ، قَالَ: "شِرَارُ قُرَيْشٍ خِيَارُ شِرَارِ النَّاسِ" . أَخْرَجَ السَّبْعَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ وَفَضَائِلِ قُرَيْشٍ، وَهِيَ أَوَّلُ مَا فِيهِ.
حافظ محمد فہد
ابن ابی ذئب سے روایت ہے (انہوں نے سند بیان کی لیکن میں اسے یاد نہیں کر سکا) کہ رسول اللہ ﷺ نے قریش کے بارے میں کوئی اچھی بات کہی (جسے میں یاد نہیں کر سکا)، فرمایا: ”قریش کے برے لوگ بھی (دوسرے) برے لوگوں میں سے اچھے لوگوں کی طرح ہیں۔“