کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: بنو نضیر کے اموال میں سے جو اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو مالِ فئے عطا فرمایا۔
حدیث نمبر: 1761
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: وَسَمِعْتُ ابْنَ عُيَيْنَةَ يُحَدِّثُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ: أَنَّهُ سَمِعَ مَالِكَ بْنَ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَالْعَبَّاسَ، وَعَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا يَخْتَصِمَانِ إِلَيْهِ فِي أَمْوَالِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عُمَرُ: كَانَتْ أَمْوَالُ بَنِي النَّضِيرِ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِمَّا لَمْ يُوجِفْ عَلَيْهِ الْمُسْلِمُونَ بِخَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ، [ ص: 43 ] فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَالِصًا دُونَ الْمُسْلِمِينَ، فَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُنْفِقُ مِنْهَا عَلَى أَهْلِهِ نَفَقَةَ سَنَةٍ، فَمَا فَضَلَ جَعَلَهُ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ عُدَّةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى، ثُمَّ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَلِيَهَا أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمِثْلِ مَا وَلِيَهَا بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ وَلِيتُهَا بِمِثْلِ مَا وَلِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ، ثُمَّ سَأَلْتُمَانِي أَنْ أُولِيكُمَاهَا فَوَلَّيْتُكُمَاهَا عَلَى أَنْ تَعْمَلَا فِيهِ بِمِثْلِ مَا وَلِيَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ ثُمَّ وَلِيتُهَا فَجِئْتُمَانِي تَخْتَصِمَانِ أَتُرِيدَانِ أَنْ أَدْفَعَ إِلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْكُمَا نِصْفًا؟ أَتُرِيدَانِ مِنِّي قَضَاءَ غَيْرِ مَا قَضَيْتُ بِهِ بَيْنَكُمَا أَوَّلًا؟ فَلَا وَالَّذِي بِإِذْنِهِ تَقُومُ السَّمَوَاتُ وَالْأَرْضُ، لَا أَقْضِي بَيْنَكُمَا قَضَاءً غَيْرَ ذَلِكَ، فَإِنْ عَجَزْتُمَا عَنْهَا فَادْفَعَاهَا إِلَيَّ أَكْفِكُمَاهَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَقَالَ لِي سُفْيَانُ: لَمْ أَسْمَعْهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ، وَلَعَلَّ أَخْبَرَنِيهِ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ. قُلْتُ: كَمَا قَصَصْتَ؟ قَالَ: نَعَمْ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ قِسْمَةِ الْفَيْءِ.
حافظ محمد فہد
مالک بن اوس بن حدثان رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے سنا جبکہ عباس اور علی رضی اللہ عنہما بھی آپ کے پاس نبی ﷺ کے اموال میں (جو اللہ نے آپ کو بطورِ فئی دیے تھے) آپس کا جھگڑا لے کر آئے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بنو نضیر کے اموال کو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بغیر لڑائی کے دیا تھا، جس کے لیے مسلمانوں نے گھوڑے اور اونٹ نہیں دوڑائے تھے۔ اور یہ اموال خاص طور پر رسول اللہ ﷺ کے لیے تھے، مسلمانوں کے علاوہ (یعنی صحابہ کا کوئی حصہ نہ تھا)۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺ اس سے اپنے گھر والوں کا سالانہ خرچ دیتے اور جو باقی بچتا اسے گھوڑوں اور سامانِ جنگ میں اللہ کے راستے میں جہاد کی تیاری کے لیے خرچ کرتے۔ پھر رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے، پھر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس میں اسی طرح ولی بن کر تصرف کیا جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا۔ پھر میں نے بھی اس میں اسی طرح ولی بن کر کیا ہے جس طرح کہ رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیا، پھر تم دونوں (علی اور عباس رضی اللہ عنہما) نے مجھ سے کہا کہ میں تمہیں ولی بنا دوں، تو میں نے تم دونوں کو اس شرط پر ولی بنا دیا کہ تم دونوں بھی اس میں وہی (تصرف) کرو جو رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کیے۔ اب تم دونوں جھگڑا لے کر آئے ہو، کیا تم یہ چاہتے ہو کہ میں تم میں سے ہر ایک کو آدھا آدھا حصہ دے دوں؟ کیا تم دونوں اب مجھ سے پہلے فیصلے کے علاوہ کوئی اور فیصلہ چاہتے ہو؟ نہیں! اس ذات کی قسم جس کے حکم سے آسمان و زمین قائم ہیں، میں تم میں اس کے سوا کوئی اور فیصلہ نہیں کروں گا۔ اگر تم اس سے عاجز آ گئے ہو تو پھر وہ جائیداد میرے سپرد کرو، اور میں اس کا انتظام کر لوں گا۔“ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مجھ سے سفیان رحمہ اللہ نے کہا: ”میں نے یہ حدیث زہری رحمہ اللہ سے نہیں سنی اور شاید مجھے عمرو بن دینار رحمہ اللہ نے زہری رحمہ اللہ کے واسطہ سے بتایا۔“ (امام شافعی رحمہ اللہ نے کہا) میں نے پوچھا: ”جس طرح آپ نے واقعہ بیان کیا (اسی طرح ہی)؟“ تو فرمایا: ”ہاں۔“