کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: لڑنے والوں اور (غیر قتال) اولاد/نسل کے درمیان فرق کا بیان۔
حدیث نمبر: 1760
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ [ ص: 42 ] عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: عُرِضْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ أُحُدٍ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ سَنَةً فَرَدَّنِي، ثُمَّ عُرِضْتُ عَلَيْهِ عَامَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً فَأَجَازَنِي. قَالَ نَافِعٌ: فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ، فَقَالَ: هَذَا فَرْقٌ بَيْنَ الْمُقَاتِلَةِ وَالذُّرِّيَّةِ، وَكَتَبَ أَنْ يَفْرِضَ لِابْنِ خَمْسَ عَشْرَةَ فِي الْمُقَاتِلَةِ، وَمَنْ لَمْ يَبْلُغْهَا فِي الذُّرِّيَّةِ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ قِسْمَةِ الْفَيْءِ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان فرمایا کہ میں نبی ﷺ کے سامنے غزوہ احد والے سال پیش کیا گیا اور میری عمر 14 سال تھی تو آپ ﷺ نے مجھے (جنگ میں شرکت کے لیے) قبول نہیں فرمایا، پھر میں غزوہ خندق والے سال آپ ﷺ کے سامنے پیش کیا گیا جبکہ میری عمر 15 سال تھی تو آپ ﷺ نے مجھے اجازت دے دی۔ نافع رحمہ اللہ نے کہا کہ میں نے یہ حدیث عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کو بیان کی تو انہوں نے فرمایا: ”یہ لڑنے والوں اور لڑکوں کے درمیان فرق (حد) ہے۔“ اور لکھا کہ 15 سال والوں کو لڑنے والوں جیسا غنیمت کا حصہ مقرر کیا جائے اور جن کی عمر 15 سال نہیں ہوئی انہیں لڑکوں میں شمار کیا جائے۔