کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: مالِ غنیمت کی تقسیم کا بیان۔
حدیث نمبر: 1749
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ مِنْ أَصْحَابِنَا، عَنْ إِسْحَاقَ الْأَزْرَقِ الْوَاسِطِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ضَرَبَ لِلْفَرَسِ بِسَهْمَيْنِ وَلِلْفَارِسِ بِسَهْمٍ.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے (مالِ غنیمت سے) گھوڑے کے لیے دو حصے اور اس کے مالک کے لیے ایک حصہ مقرر فرمایا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الجهاد وقسم الغنائم / حدیث: 1749
تخریج حدیث اخرجه البخارى الجهاد والسير ، باب سهام الفرس (2863) ومسلم ، الجهاد ، باب كيفية قسمة الغنيمه بين الحاضرين (1762)۔
حدیث نمبر: 1750
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ: أَنَّ الزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ كَانَ يَضْرِبُ فِي الْمَغْنَمِ بِأَرْبَعَةِ أَسْهُمٍ: سَهْمٍ لَهُ وَسَهْمَيْنِ لِفَرَسِهِ وَسَهْمٍ فِي ذِي الْقُرْبَى. قَالَ الشَّافِعِيُّ: يَعْنِي، وَاللَّهُ أَعْلَمُ، بِسَهْمِ ذِي الْقُرْبَى سَهْمَ صَفِيَّةَ أُمِّهِ، وَقَدْ شَكَّ سُفْيَانُ، أَحْفَظُهُ عَنْ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى سَمَاعًا، وَلَمْ يَشُكَّ سُفْيَانُ أَنَّهُ مِنْ حَدِيثِ هِشَامٍ، عَنْ يَحْيَى هُوَ وَلَا غَيْرُهُ مِمَّنْ حَفِظَهُ عَنْ هِشَامٍ.
حافظ محمد فہد
يحيى بن عباد بن عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ زبیر بن العوام غنیمت میں چار حصے لیتے تھے۔ ایک حصہ ان کا، دو حصے ان کے گھوڑے کے، اور ایک حصہ ذی القربی (رشتہ دار) کا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: یعنی، اور اللہ خوب جانتے ہیں۔ قرابت کے حصے سے مراد ان کی ماں صفیہ رضی اللہ عنہا کا حصہ ہے۔ سفیان کو اس میں شک ہوا ہے کہ آیا اس نے یہ بات ہشام سے سماعاً (سن کر) یاد کی ہے۔ سفیان کو یہ شک نہیں ہوا کہ یہ ہشام کی یحیی کے واسطے سے حدیث ہے نہ انہیں نہ ان کے علاوہ کسی کو جس نے ہشام سے یاد کیا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الجهاد وقسم الغنائم / حدیث: 1750
تخریج حدیث اسناده ضعيف لانقطاعه : اخرجه البيهقى 9/52 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5344)۔
حدیث نمبر: 1751
أَخْبَرَنَا مُطَرِّفُ بْنُ مَازِنٍ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: لَمَّا قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ ذِي الْقُرْبَى بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ أَتَيْتُهُ أَنَا وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَؤُلَاءِ إِخْوَانُنَا مِنْ بَنِي هَاشِمٍ لَا نُنْكِرُ فَضْلَهُمْ لِمَكَانِكَ الَّذِي وَضَعَكَ اللَّهُ بِهِ مِنْهُمْ، [ ص: 38 ] أَرَأَيْتَ إِخْوَانَنَا مِنْ بَنِي الْمُطَّلِبِ أَعْطَيْتَهُمْ وَتَرَكْتَنَا أَوْ مَنَعْتَنَا، وَإِنَّمَا قَرَابَتُنَا وَقَرَابَتُهُمْ وَاحِدَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "إِنَّمَا بَنُو هَاشِمٍ وَبَنُو الْمُطَّلِبِ شَيْءٌ وَاحِدٌ هَكَذَا" . وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ.
حافظ محمد فہد
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے قریبی رشتہ داروں کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا تو میں اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ ہمارے بنو ہاشم کے بھائی ہیں، ہم ان کی فضیلت کا انکار نہیں کرتے کیونکہ اللہ نے آپ کو ان میں رکھا ہے، لیکن آپ کا ہمارے بنو مطلب کے بھائیوں کے متعلق کیا خیال ہے کہ آپ نے انہیں قرابت کا حصہ دیا اور ہمیں چھوڑ دیا یا منع کیا، حالانکہ ہماری اور ان کی آپ سے رشتہ داری ایک جیسی ہے۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بنو ہاشم اور بنو مطلب ایک ہی چیز ہیں“۔ اور آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کو ایک دوسرے میں ڈالا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الجهاد وقسم الغنائم / حدیث: 1751
تخریج حدیث صحيح من غير هذا الطريق : اخرجه البخارى فرض الخمس، باب ومن الدليل على أن الخمس (3140)، (3502)۔
حدیث نمبر: 1752
أَخْبَرَنَا، أَحْسَبُهُ دَاوُدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْعَطَّارَ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ. قَالَ الْقَاضِي أَبُو بَكْرٍ الْحِيرِيُّ: وَفِي نُسْخَةِ أُخْرَى، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَعْنَاهُ.
حافظ محمد فہد
ایک سند میں زہری رحمہ اللہ کے واسطہ سے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے۔ اور دوسرے نسخہ میں عن زہری عن ابن مسیب عن جبیر بن مطعم سے نبی ﷺ سے سابقہ حدیث کے ہم معنی مروی ہے۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الجهاد وقسم الغنائم / حدیث: 1752
تخریج حدیث اخرجه البخاري، المغازی، باب غزوة خيبر (4229)۔
حدیث نمبر: 1753
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَ مَعْنَاهُ. [ ص: 39 ] قَالَ الشَّافِعِيُّ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِمُطَرِّفِ بْنِ مَازِنٍ: أَنَّ يُونُسَ وَابْنَ إِسْحَاقَ رَوَيَا حَدِيثِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ كَمَا وَصَفْتُ، فَلَعَلَّ ابْنَ شِهَابٍ رَوَاهُ عَنْهُمَا مَعًا.
حافظ محمد فہد
ایک اور سند سے جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے نبی ﷺ سے سابقہ حدیث کے ہم معنی مروی ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے یہ بات مطرف بن مازن سے کہی کہ یونس اور ابن اسحاق دونوں نے ابن شہاب کی حدیث کو ابن مسیب سے روایت کیا ہے۔ تو انہوں نے فرمایا: ہمیں معمر نے حدیث بیان کی جس طرح میں نے بیان کیا اور شاید ابن شہاب نے اس کو ان دونوں سے ایک ہی وقت میں روایت کیا ہو۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الجهاد وقسم الغنائم / حدیث: 1753
تخریج حدیث صحيح : اخرجه ابوداود، الخراج والفى والامارة، باب فی بیان مواضع قسم الخمس وسهم ذي القربي (2980) والنسائی، کتاب قسم الفي (4142)۔
حدیث نمبر: 1754
أَخْبَرَنَا عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ، وَزَادَ: لَعَنَ اللَّهُ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ.
حافظ محمد فہد
علی بن حسین رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ رسول اللہ ﷺ سے اسی طرح بیان کرتے ہیں۔ اور یہ الفاظ زیادہ کیے کہ ”اللہ کی لعنت ہو اس پر جس نے بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تفریق ڈالی۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الجهاد وقسم الغنائم / حدیث: 1754
تخریج حدیث صحيح بدون الزيادة، وهذه الزيادة ضعيفة لأن السند الذى جاء بها معضل اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (3996)۔
حدیث نمبر: 1755
أَخْبَرَنَا الثِّقَةُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنِ ابْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، قَالَ: قَسَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَهْمَ ذِي الْقُرْبَى بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ وَبَنِي الْمُطَّلِبِ وَلَمْ يُعْطِ مِنْهُ أَحَدًا مِنْ بَنِي عَبْدِ شَمْسٍ وَلَا بَنِي نَوْفَلٍ شَيْئًا.
حافظ محمد فہد
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے رشتہ داری کا حصہ بنو ہاشم اور بنو مطلب میں تقسیم کیا اور اس میں سے بنو عبد شمس اور بنو نوفل میں سے کسی آدمی کو کچھ بھی نہیں دیا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الجهاد وقسم الغنائم / حدیث: 1755
تخریج حدیث حديث صحيح اخرجه البيهقي في المعرفة السنن والآثار (3995) وانظر الحديث الذي قبله (1751)، (1753) ،(1752)۔
حدیث نمبر: 1756
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مَطَرٍ الْوَرَّاقِ وَرَجُلٍ لَمْ يُسَمِّهِ، كِلَاهُمَا عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، قَالَ: لَقِيتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عِنْدَ أَحْجَارِ الزَّيْتِ، فَقُلْتُ لَهُ: بِأَبِي وَأُمِّي مَا فَعَلَ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي حَقِّكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ مِنَ الْخُمُسِ؟ فَقَالَ: عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَمَّا أَبُو بَكْرٍ، رَحِمَهُ اللَّهُ، فَلَمْ يَكُنْ فِي زَمَانِهِ أَخْمَاسٌ، وَمَا كَانَ فَقَدْ أَوْفَانَاهُ. وَأَمَّا عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمْ يَزَلْ يُعْطِينَاهُ حَتَّى جَاءَهُ مَالُ السُّوسِ وَالْأَهْوَازِ، أَوْ قَالَ: الْأَهْوَازِ، أَوْ قَالَ: فَارِسَ، أَنَا أَشُكُّ، يَعْنِي الشَّافِعِيَّ، فَقَالَ: فِي [ ص: 40 ] حَدِيثِ مَطَرٍ أَوْ حَدِيثِ الْآخَرِ، فَقَالَ: فِي الْمُسْلِمِينَ خَلَّةٌ، فَإِنْ أَحْبَبْتُمْ تَرَكْتُمْ حَقَّكُمْ فَجَعَلْنَاهُ فِي خَلَّةِ الْمُسْلِمِينَ حَتَّى يَأْتِيَنَا مَالٌ فَنُوَفِّيكُمْ حَقَّكُمْ مِنْهُ، فَقَالَ الْعَبَّاسُ لِعَلِيٍّ: أَتُطْمِعُهُ فِي حَقِّنَا، فَقُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا الْفَضْلِ أَلَسْنَا أَحَقَّ مَنْ أَجَابَ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ وَرَفَعَ خَلَّةَ الْمُسْلِمِينَ؟ فَتُوُفِّيَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَبْلَ أَنْ يَأْتِيَهُ مَالٌ فَيَقْضِينَاهُ. وَقَالَ: الْحَكَمُ فِي حَدِيثِ مَطَرٍ وَالْآخَرِ: إِنَّ عُمَرَ قَالَ: لَكُمْ حَقٌّ: وَلَا يَبْلُغُ عِلْمِي إِذْ كَثُرَ أَنْ يَكُونَ لَكُمْ كُلُّهُ فَإِنْ شِئْتُمْ أَعْطَيْتُكُمْ مِنْهُ بِقَدَرِ مَا أَرَى لَكُمْ، فَأَبَيْنَا عَلَيْهِ إِلَّا كُلَّهُ فَأَبَى أَنْ يُعْطِيَنَا.
حافظ محمد فہد
عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ نے بیان کیا کہ میں علی رضی اللہ عنہ سے احجار الزیت (یہ مدینہ میں ایک جگہ کا نام ہے) کے پاس ملا تو میں نے ان سے پوچھا: ”میرے ماں باپ آپ پر قربان، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما نے تم اہل بیت کے خمس کے حق کا کیا کیا؟“ تو علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جہاں تک ابوبکر رضی اللہ عنہ کا تعلق ہے، اللہ ان پر رحم کرے، ان کے عہد میں خمس (کے نئے اموال) نہیں تھے، اور جو کچھ (پہلے سے) تھا اس سے انہوں نے ہمیں پورا پورا دیا۔ اور عمر رضی اللہ عنہ بھی ہمیں ہمیشہ دیتے رہے حتیٰ کہ ان کے پاس سوس اور اہواز کا مال آیا (یا فرمایا: اہواز یا فارس، امام شافعی کو شک ہے)۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اب مسلمانوں میں مفلسی ہے، اگر تم چاہو تو تم اپنا حق چھوڑ دو اور ہم اسے مسلمانوں کی محتاجی دور کرنے میں صرف کر دیں یہاں تک کہ ہمارے پاس پھر مال آئے اور ہم اس سے تمہارا حق پورا کر دیں۔“ تو عباس رضی اللہ عنہ نے علی رضی اللہ عنہ سے کہا: ”کیا آپ انہیں ہمارے حق پر طمع دلاتے ہیں؟“ تو میں نے ان سے کہا: ”اے ابوالفضل! کیا ہم اس کے زیادہ حق دار نہیں کہ امیر المومنین کی بات مانیں اور مسلمانوں کی مفلسی دور کریں؟“ پھر عمر رضی اللہ عنہ فوت ہو گئے اس سے پہلے کہ ان کے پاس مال آتا اور وہ ہمیں ادائیگی کرتے۔ حکم اور ایک دوسرے راوی نے حدیثِ مطر میں فرمایا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تمہارے لیے حق ہے لیکن مجھے نہیں معلوم کہ جب یہ مال بہت زیادہ ہو جائے تو کیا وہ سارے کا سارا تمہارے لیے ہے؟ اگر تم چاہو تو میں تمہیں اتنا دیتا ہوں جتنا میں تمہارا حق خیال کرتا ہوں۔“ (علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا) ہم نے انکار کیا مگر یہ کہ ہمیں سارا دیا جائے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے بھی ہمیں دینے سے انکار کر دیا۔
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الجهاد وقسم الغنائم / حدیث: 1756
تخریج حدیث اسناده ضعيف جدا، لضعف شيخ الشافعي ومطر بن طهمان اخرجه البيهقي : 344/6 - وفي المعرفة السنن والآثار له (3999)۔
حدیث نمبر: 1757
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ أَنَّ عُمَرَ قَالَ: مَا أَحَدٌ إِلَّا وَلَهُ فِي هَذَا الْمَالِ حَقٌّ أُعْطِيَهُ أَوْ مُنِعَهُ إِلَّا مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ.
حافظ محمد فہد
مالک بن اوس سے روایت ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہر ایک کا اس مال میں حق ہے، وہ اسے دیا گیا ہو یا اس سے روک لیا گیا ہو، سوائے تمہارے غلاموں کے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الجهاد وقسم الغنائم / حدیث: 1757
تخریج حدیث صحیح : اخرجه ابوداود، الخراج والفئ والإمارة، باب فيما يلزم الامام عن..... الخ (2950)۔
حدیث نمبر: 1758
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسٍ، عَنْ عُمَرَ، نَحْوَهُ، وَقَالَ: لَئِنْ عِشْتُ لَيَأْتِيَنَّ الرَّاعِي بِسَرْوِ حِمْيَرَ حَقُّهُ. أَخْرَجَ الْعَشَرَةَ الْأَحَادِيثَ، وَقَوْلَ الشَّافِعِيِّ مِنْ كِتَابِ قِسْمَةِ الْفَيْءِ.
حافظ محمد فہد
مالک بن اوس سے عمر رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے اسی طرح مروی ہے اور (مزید) فرمایا: ”اگر میں زندہ رہا تو سیرِ حمیر کے چرواہے کے پاس بھی اس کا حق پہنچے گا۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب الجهاد وقسم الغنائم / حدیث: 1758
تخریج حدیث اسناده ضعيف لضعف شیخ الشافعي : اخرجه البيهقى فى المعرفة السنن والآثار، رقم : (4010)۔