کتب حدیث ›
مسند الإمام الشافعي › ابواب
› باب: غزوہ حنین اور مقتول کا سامان قاتل کو بطور انعام دینے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1747
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ أَفْلَحَ، عَنْ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَى أَبِي قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ، فَلَمَّا الْتَقَيْنَا كَانَتِ لِلْمُسْلِمِينَ جَوْلَةٌ فَرَأَيْتُ رَجُلًا مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ عَلَا رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، قَالَ: فَاسْتَدَرْتُ لَهُ حَتَّى أَتَيْتُهُ مِنْ وَرَائِهِ فَضَرَبْتُهُ عَلَى حَبْلِ عَاتِقِهِ ضَرْبَةً فَأَقْبَلَ عَلَيَّ فَضَمَّنِي ضَمَّةً وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ الْمَوْتِ، ثُمَّ أَدْرَكَهُ الْمَوْتُ فَأَرْسَلَنِي، فَلَحِقْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ لَهُ: مَا بَالُ النَّاسِ؟ قَالَ: أَمْرُ اللَّهِ، ثُمَّ إِنَّ النَّاسَ رَجَعُوا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "مَنْ قَتَلَ قَتِيلًا لَهُ عَلَيْهِ بَيِّنَةٌ فَلَهُ سَلَبُهُ" ، فَقُمْتُ، فَقُلْتُ: مَنْ يَشْهَدُ لِي؟ ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَهَا الثَّانِيَةَ، فَقُمْتُ فَقُلْتُ: مَنْ [ ص: 35 ] يَشْهَدُ لِي ثُمَّ جَلَسْتُ، فَقَالَهَا الثَّالِثَةَ، فَقُمْتُ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا لَكَ يَا أَبَا قَتَادَةَ؟ فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: صَدَقَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَسَلَبُ ذَلِكَ الْقَتِيلِ عِنْدِي، فَأَرْضِهِ عَنِّي، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَاهَا اللَّهِ إِذًا لَا نَعْمِدُ إِلَى أَسَدٍ مِنْ أُسْدِ اللَّهِ تَعَالَى يُقَاتِلُ عَنِ اللَّهِ تَعَالَى فَنُعْطِيكَ سَلَبَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: "صَدَقَ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ" قَالَ أَبُو قَتَادَةَ: فَأَعْطَانِيهِ، فَبَعَثَ الدِّرْعَ، فَابْتَعْتُ مَخْرَفًا فِي بَنِي سَلَمَةَ، فَإِنَّهُ لَأَوَّلُ مَا تَأَثَّلْتُ فِي الْإِسْلَامِ. قَالَ مَالِكٌ: الْمَخْرَفُ النَّخْلُ. أَخْرَجَهُ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ.
حافظ محمد فہد
ابو قتادہ انصاری رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ ہم غزوہ حنین کے سال رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نکلے، جب ہم دشمن سے ملے تو ابتداء میں مسلمان ڈگمگانے لگے کہ میں نے مشرکوں میں سے ایک آدمی کو دیکھا جو ایک مسلمان پر غالب ہو چکا تھا، میں جلدی سے اس کی طرف مڑا یہاں تک کہ میں نے اس کے پیچھے سے آ کر اس کی گردن پر تلوار دے ماری، پھر وہ میری طرف مڑا اور مجھے اس قدر زور سے بھینچا کہ مجھے موت کا خدشہ محسوس ہوا، پھر اس کو موت نے آ لیا تب اس نے مجھے چھوڑا۔ پھر میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے بعد میں ملا تو میں نے ان سے پوچھا: اب لوگوں کا کیا حال ہے؟ انہوں نے کہا: جو اللہ کا حکم تھا وہ ہوا۔ پھر لوگ (یعنی مسلمان) جنگ میں واپس آگئے (یعنی سنجل گئے) تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی کافر کو قتل کیا اور اس پر گواہی ہو تو اس (مقتول کافر) کا سارا ساز و سامان اسے ملے گا۔“ (ابو قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں) میں کھڑا ہوا اور میں نے کہا: میری طرف سے کون گواہی دے گا؟ پھر میں بیٹھ گیا، آپ ﷺ نے یہی بات دوبارہ کہی تو میں نے کھڑے ہو کر کہا: میری طرف سے کون گواہی دے گا؟ (کسی نے گواہی نہ دی) تو میں پھر بیٹھ گیا، آپ ﷺ نے تیسری بار یہی بات دہرائی تو میں تیسری بار کھڑا ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابو قتادہ کیا ہے؟“ پھر میں نے آپ ﷺ کے سامنے سارا واقعہ بیان کیا تو قوم سے ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! اس نے سچ کہا، اور اس مقتول کا سامان میرے پاس ہے، اور آپ میرے حق میں انہیں راضی کر دیں۔ لیکن ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں اللہ کی قسم! ہم اللہ کے شیروں میں سے ایک شیر کے ساتھ ایسا نہیں کریں گے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے لڑے اور ہم اس کا مال تمہیں دے دیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ابو بکر نے سچ کہا پھر آپ ﷺ نے وہ سامان انہیں دے دیا۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ ﷺ نے وہ مجھے وہ سامان دیا تو میں نے زرہ بیچی اور بنو سلمہ میں ایک باغ خریدا، اور یہ وہ پہلا مال تھا جو اسلام لانے کے بعد میں نے حاصل کیا۔ امام مالک نے فرمایا: مخرف کا مطلب ہے نخل (کھجور)۔