کتب حدیثمسند الإمام الشافعيابوابباب: لغو قسم اور اس شخص کا بیان جس نے قسم اٹھا کر اسے پکا کر لیا۔
حدیث نمبر: 1723
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرٌو وَابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، قَالَ: ذَهَبْتُ أَنَا وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ إِلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، وَهِيَ مُعْتَكِفَةٌ فِي ثَبِيرٍ فَسَأَلْتُهَا عَنْ قَوْلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ: لا يُؤَاخِذُكُمُ اللَّهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ [الْبَقَرَةِ: 225] قَالَتْ: هُوَ: لَا وَاللَّهِ، بَلَى وَاللَّهِ.
حافظ محمد فہد
عطاء نے بیان فرمایا کہ میں اور عبید بن عمیر عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے جبکہ وہ شہیر مقام پر اعتکاف بیٹھی ہوئی تھیں۔ میں نے ان سے اللہ کے فرمان ”اللہ تم سے تمہاری لغو قسموں پر مواخذہ نہیں کرے گا“ (البقرہ : 225) سے متعلق پوچھا تو انہوں نے فرمایا: ”یہ وہ (قسمیں ہیں جو لوگوں کا تکیہ کلام ہوں جیسے) نہیں اللہ کی قسم! ہاں اللہ کی قسم!“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات / حدیث: 1723
تخریج حدیث اخرجه ابو داود الايمان والنذور، باب لغو اليمين (3254) وصححه ابن حبان۔
حدیث نمبر: 1724
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: لَغْوُ الْيَمِينِ قَوْلُ الْإِنْسَانِ: لَا وَاللَّهِ، وَبَلَى وَاللَّهِ.
حافظ محمد فہد
عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا کہ لغو قسم یہ ہے کہ انسان (عادتاً) کہے: ”نہیں اللہ کی قسم!“ اور ”ہاں اللہ کی قسم!“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات / حدیث: 1724
تخریج حدیث اخرجه البخاری، الايمان والنذور، باب﴿لا يؤاخذكم الله باللغو فى ايمانكم﴾ (6663)۔
حدیث نمبر: 1725
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّهُ قَالَ: مَنْ حَلَفَ عَلَى يَمِينٍ فَوَكَّدَهَا فَعَلَيْهِ عِتْقُ رَقَبَةٍ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْكَفَّارَاتِ وَالنُّذُورِ، وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
حافظ محمد فہد
ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: ”جس نے قسم کھائی اور پھر اسے پختہ کر دیا تو (اس کو توڑنے پر) اس پر ایک گردن آزاد کرانا ضروری ہے۔“
حوالہ حدیث مسند الإمام الشافعي / كتاب القضاء والأحكام والدعاوى والبينات واليمين ومع الشاهد والأيمان والشهادات / حدیث: 1725
تخریج حدیث صحيح اخرجه البيهقي : 56/10 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5814)۔